سینیٹ: بچوں کی فحش ویڈیوز پر 10 سال سزا اور 50 لاکھ جرمانے کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد: سینیٹ نے قانون سازی کے ایک اہم مرحلے میں انسدادِ الیکٹرانک جرائم، فوجداری قوانین اور سماجی تحفظ سے متعلق متعدد کلیدی ترامیمی بلز منظور کر لیے، جنہیں ملک میں سائبر کرائم کی روک تھام، متاثرین کے حقوق کے تحفظ اور قانونی نظام کو مؤثر بنانے کی جانب نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوان بالا سے منظور ہونے والے پیکا ایکٹ میں ترمیمی بل کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان ممالک کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے معاہدے (میوچوئل لیگل اسسٹنس ٹریٹی) کرے، جن کی سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پاکستان میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد آن لائن جرائم کی روک تھام، ڈیجیٹل شواہد کے تبادلے اور سرحد پار سائبر کرائم کی مؤثر تحقیقات کو یقینی بنانا ہے، تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔
سینیٹ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا ایک اور اہم بل بھی منظور کیا، جس کے تحت جنسی زیادتی کا شکار لڑکے یا لڑکی کو فوری طبی معائنہ فراہم نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ فرد کو ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ نجی یا سرکاری اسپتال اگر ریپ متاثرہ کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بل میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ نجی اسپتال جنسی زیادتی کے شکار فرد کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر سرکاری اسپتال منتقل کرنے کے پابند ہوں گے، تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل طبی معائنہ اور شواہد کا بروقت اندراج ممکن بنایا جا سکے۔ اس شق کو متاثرین کے فوری انصاف اور کیس کی شفاف تفتیش کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوان بالا نے انسدادِ الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل بھی منظور کیا، جس کے تحت بچوں کی فحش ویڈیوز بنانے، رکھنے یا پھیلانے کے جرم میں سزا کو 7 سال سے بڑھا کر 10 سال قید اور جرمانے کو 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس ترمیم کا مقصد بچوں کو آن لائن استحصال سے محفوظ بنانا اور سائبر جرائم پیشہ عناصر کے لیے سخت ترین سزاؤں کا تعین کرنا ہے۔
اس کے علاوہ سینیٹ نے ثمینہ زہری کی جانب سے پیش کردہ فیملی کورٹ ترمیمی بل اور شیری رحمان کا اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کے استعمال پر پابندی سے متعلق بل بھی منظور کر لیا۔ ان قوانین کو خاندانی تنازعات کے جلد از جلد حل اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔