ثالثی عدالت میں سندھ طاس تنازع پر قانونی کارروائی میں پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-01-19
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) ہیگ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق اہم ثالثی سماعت مکمل ہوگئی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس تنازع پر قانونی کارروائی آگے بڑھ گئی، مغربی دریاؤں پر بھارتی پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے ثالثی عدالت میں بحث ہوئی۔پاکستان کے مطابق بھارتی منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے، عدالت نے بھارتی ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔پاکستانی وفد نے قانونی اور تکنیکی دلائل پیش کیے، بھارت نے ثالثی عدالت کی سماعت میں شرکت نہیں کی، بھارت کو شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی تھی۔سندھ طاس کیس کی سماعت 2روز تک جاری رہی، مستقل ثالثی عدالت اس کیس کی کارروائی کی نگرانی کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ثالثی عدالت
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔