اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 183,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ٹریڈنگ کے دوران 1,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوپہر 1 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 183,794.07 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,640.52 پوائنٹس یعنی 0.90 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔
حبکو، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے بڑے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
https://Twiiter.
دریں اثنا، پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کے روز اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ ترجیحی تجارتی معاہدے کو 2027 تک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں گی، جو دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج معمولی کمی کے ساتھ بند ہوئی تھی کیونکہ فرٹیلائزر سیکٹر میں محدود بہتری کے باوجود مسلسل فروخت کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا
کے ایس ای 100 انڈیکس 186.83 پوائنٹس یعنی 0.10 فیصد کمی کے ساتھ 182,153.55 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کے روز بانڈز میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بحالی کی رفتار سست پڑ گئی، کیونکہ امریکا میں توقع سے کم ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
جاپان کے انتخابات کے بعد ین میں جاری تیزی سرمایہ کاروں کی سوچ میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہے۔
جاپان میں تعطیل کے باعث ایشیا میں کاروباری سرگرمیاں محدود رہیں جبکہ ہانگ کانگ اور چین کی مارکیٹیں تقریباً فلیٹ کھلیں۔
سونا دوبارہ 5,000 ڈالر فی اونس کی سطح سے اوپر چلا گیا جبکہ ٹریژری فیوچرز میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، اگرچہ کیش مارکیٹ بند تھی۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار میں راتوں رات تقریباً 6 بیسس پوائنٹس کی کمی ہوئی اور یہ ایک ماہ کی کم ترین سطح 4.14 فیصد تک آ گئی، کیونکہ دسمبر میں بنیادی امریکی ریٹیل سیلز میں 0.1 فیصد کمی اور نومبر و اکتوبر کے اعداد و شمار میں نیچے کی جانب نظرثانی سامنے آئی۔
مزید پڑھیں: مثبت آغاز کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس 600 پوائنٹس گرگیا
بانڈ کی قیمت بڑھنے پر پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.3 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا، کیونکہ گزشتہ ہفتے سافٹ ویئر شیئرز میں بھاری فروخت کے بعد بحالی کی رفتار کمزور پڑنے لگی ہے۔
الفابیٹ کے شیئرز میں 1.8 فیصد کمی ہوئی، جس نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا، کیونکہ گوگل کی ذیلی کمپنی مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر اخراجات کے لیے قرض کے حصول کے عمل میں ہے۔
ایشیا میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.2 فیصد بلند رہے جبکہ نکی فیوچرز میں بھی اضافہ ہوا، اگرچہ جاپان کی کیش مارکیٹ تعطیل کے باعث بند رہی۔
آسٹریلوی مارکیٹ میں کارپوریٹ نتائج کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور سڈنی میں دن کے وسط تک انڈیکس تقریباً 1 فیصد اوپر تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس اتار چڑھاؤ اسٹاک ایکسچینج اعداد و شمار بینچ مارک پاکستان جاپان چین مثبت رجحان مسلم کمرشل بینک ہانگ کانگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس اتار چڑھاؤ اسٹاک ایکسچینج پاکستان جاپان چین ہانگ کانگ
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔