data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا(نمائندہ خصوصی )بنگلادیش میں کل 12 فروری کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے کیے گئے ایک تازہ عوامی سروے میں بی این پی اور بنگلادیش جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.

1 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے جبکہ بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت 11 سیاسی جماعتوں پر مشتمل انتخابی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔یہ سروے ملک بھر کے 63 ہزار 115 ووٹرز میں کیا گیا جن میں 36 ہزار 634 مرد جبکہ 26 ہزار 981 خواتین شامل تھیں۔ سروے کے مطابق 92 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ 4.4 فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے اور 2.5 فیصد نے بتایا کہ وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے۔اگرچہ مجموعی ووٹوں کے تناسب میں بی این پی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے تاہم سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن حلقوں میں نتیجہ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے وہاں بنگلادیش جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد آگے ہے۔سروے کے مطابق بنگلادیش جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو 105 حلقوں میں واضح کامیابی مل سکتی ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر یقینی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ 75 حلقوں میں دونوں بڑے اتحادوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ 19 حلقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

نمائندہ خصوصی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلادیش جماعت اسلامی بی این پی اتحاد کو

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر