جماعت اسلامی بنگلادیش: عوامی طاقت‘ اسلامی قیادت اور فلاحی ریاست کی جانب فیصلہ کن پیش قدمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-01-21
ڈھاکا(نمائندہ خصوصی ) جماعت اسلامی بنگلادیش نے عام انتخابات کے لیے اپنا تفصیلی اور جامع انتخابی منشور جاری کردیا، جس میں کرپشن فری، فلاحی اور جمہوری ریاست کا وعدہ کیا گیا ہے۔ایک ایسے تاریک دور کے بعد جب برسوں سے اقتدار پر قابض قوتوں نے کرپشن، جبر، انتخابی دھاندلی اور ادارہ جاتی تباہی سے بنگلادیش کے چہرے پر سیاہ دھبہ لگا رکھا تھا، جماعت اسلامی خود کو ایک منظم، اصولی اور عوامی طاقت کے ساتھ بہترین متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی اب صرف ایک نظریاتی جماعت نہیں رہی بلکہ وہ ایک ایسی بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی ہے جو عوامی حمایت، تنظیمی ڈھانچے اور واضح پروگرام کے ساتھ اقتدار کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ یہی مؤقف جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بھی اپنے تازہ بیان میں دہرایا ہے۔جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ صرف ایک سال پہلے ہماری جماعت کو غیر اہم سمجھا جا رہا تھا اور آج جماعت اکثریت کے دہانے پر کھڑی ہے۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ یہ عوام کی مرضی ہے، جب عوام متحد ہو جائیں تو انہیں کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہم نے کبھی دھونس یا جبر کا سہارا نہیں لیا، نہ آئندہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جعلی ووٹر نہیں اور نہ ہمیں دھاندلی کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کسی نے عوام کے ووٹ کو چرانے یا ان کے جمہوری حق سے انکار کی کوشش کی تو ہم عوام کے ساتھ مل کر اس حق کا دفاع کریں گے، جیسا کہ ہم نے جولائی 2024 میں کیا تھا۔مقامی سیاسی حلقوں اور عالمی سطح پر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے اس بیان کو جماعت اسلامی کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور عوامی طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جماعت اسلامی کا انتخابی منشور 88 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ملک کو ایک کرپشن فری، فلاحی، انسانی اور انصاف پر مبنی ریاست میں تبدیل کرنے کا واضح منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ منشور وقتی نعروں یا غیر حقیقی وعدوں پر مبنی نہیں بلکہ قلیل، وسط اور طویل المدتی اہداف کے ساتھ تیار کی گئی ایک عملی دستاویز ہے۔منشور کے مطابق جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر حکمرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرے گی۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کے دفتر میں غیر معمولی اختیارات کے ارتکاز نے ریاستی اداروں کو مفلوج کر دیا ہے۔جماعت وعدہ کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے گا۔ قانون سازی اور پالیسی سازی پارلیمنٹ کا اصل کام ہو گا۔ اپوزیشن کو پارلیمانی نگرانی میں مؤثر کردار دیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 70 میں ترمیم کر کے ارکانِ پارلیمنٹ کو آزادانہ رائے دینے کا حق دیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے مطابق گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا حق پامال کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں کیئر ٹیکر حکومت کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا۔ تناسبی نمائندگی (PR) متعارف کرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کو مکمل آئینی و مالی خودمختاری دی جائے گی۔ پولنگ اسٹیشنز میں سی سی ٹی وی اور شفاف نگرانی۔ انتخابی اخراجات کی سخت حد بندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔منشور میں کرپشن کو ریاستی زوال کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے زیرو ٹالرنس پالیسی، وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ افسران کے اثاثوں کی عوامی تفصیل، غیر قانونی دولت کی ضبطی، سرکاری خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا بھی اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور سیاسی انتقام کے خاتمے کو ترجیح دی ہے۔ وعدوں میں پولیس اصلاحات، عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، نوآبادیاتی دور کے فرسودہ قوانین کا خاتمہ، گزشتہ 15 برس کے مظالم کی تحقیقات کے لیے ٹروتھ اینڈ ہیلنگ کمیشن شامل ہے۔جماعت اسلامی نے 2040ء تک بنگلادیش کو دو ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا ہے۔ معاشی منصوبے میں بینکنگ سیکٹر کی اصلاح، نان پرفارمنگ لونز میں کمی، سرمایہ کاری دوست ماحول، ٹیکس نظام میں شفافیت، مہنگائی پر قابو، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع شامل ہیں۔منشور کے مطابق نوجوانوں کو ریاستی قیادت میں مرکزی مقام دیا جائے گا۔ اس حوالے سے وعدوں میں آئی ٹی، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی میں تربیت، فری لانسنگ اور اسٹارٹ اپس کا فروغ، لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار، نوجوانوں کی کابینہ اور اداروں میں نمائندگی شامل ہے۔جماعت اسلامی نے خواتین کے حقوق کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف خصوصی ٹریبونلز، محفوظ عوامی ٹرانسپورٹ، تعلیم اور معاشی خودمختاری، وراثت اور جائیداد میں حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔تعلیم میں یکساں قومی معیار، مرحلہ وار مفت تعلیم، مدرسہ اور عصری نظام میں ہم آہنگی، نصاب میں اصلاح کا اعلان کیا گیا ہے۔یونیورسل ہیلتھ کیئر، بچوں اور بزرگوں کے لیے مفت علاج، سرکاری اسپتالوں کی بہتری، ہیلتھ انشورنس شامل ہیں۔جماعت اسلامی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کو مناسب قیمت، جدید زرعی ٹیکنالوجی، ملاوٹ سے پاک خوراک، 2030 تک زیرو ویسٹ اور زیرو فلڈ رسک کا ہدف شامل ہے۔خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، ہمسایہ ممالک سے برابری، مسلم دنیا سے تعلقات، روہنگیا مسئلے کا منصفانہ حل پر زور دیا گیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی بنگلادیش کا انتخابی منشور ایسے وقت میں ایک روشنی کی صورت ابھرا ہے جب عوام برسوں سے روایتی اور انتقامی سیاست سے بیزار ہو چکے تھے۔بنگلادیش میں اس وقت تازہ صورت حال یہ ہے کہ ڈاکٹر شفیق الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی خود کو ایک کرپشن فری، عوامی اور اصولی قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے مینڈیٹ دیا تو بنگلادیش کو ایک ایسا ملک بنایا جائے گا جہاں ووٹ باعزت، قانون بالادست اور ریاست عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلادیش ڈاکٹر شفیق الرحمن ہے جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے کے طور پر کے مطابق شامل ہیں کے ساتھ جائے گا کیا گیا عوام کے کے لیے گیا ہے کو ایک
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔