خواجہ سرا افراد کی فلاح و تحفظ کیلئے نئی پالیسی متعارف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: صوبائی حکومت نے خواجہ سرا افراد کو ہراسانی، تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے اور ان کی سماجی و معاشی بحالی کے لیے جامع نئی پالیسی متعارف کروا دی۔
پالیسی دستاویزات کے مطابق صوبے میں پہلی بار خواجہ سرا افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے خصوصی اینڈومینٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سرا افراد کے لیے بحالی مراکز، سیف ہومز اور کمیونٹی شیلٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ ٹرانسجینڈر پرسنز ویلفیئر رجسٹری اور باقاعدہ ڈیٹا بیس کی تیاری کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ مستحق افراد کی مؤثر انداز میں معاونت ممکن بنائی جا سکے۔
کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک
پالیسی کے تحت خواجہ سرا افراد کو صوبائی و قومی سماجی تحفظ پروگراموں، گرانٹس، ہیلتھ انشورنس اسکیموں، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور ایمرجنسی رسپانس اقدامات میں شامل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ سماجی بہبود کو صوبے میں خواجہ سرا افراد کے لیے فوکل ڈیپارٹمنٹ مقرر کیا گیا ہے، جو تمام سرکاری خدمات اور اسکیموں میں ان کی شمولیت اور انضمام کی نگرانی کرے گا۔
مزید برآں، پالیسی میں مختلف صوبائی محکموں اور کمیشنوں کو مربوط اقدامات کا پابند بنایا گیا ہے۔ خواجہ سرا افراد کو کیس مینجمنٹ سسٹم، حفاظتی پناہ گاہوں اور خاندانی ثالثی کے نظام میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا
پولیس کے تربیتی کورسز میں خواجہ سرا افراد کے حقوق سے متعلق آگاہی شامل کی جائے گی اور تھانوں میں ٹرانسجینڈر کوآرڈینیشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کے تصدیق شدہ تربیتی پروگرامز میں بھی حساسیت پیدا کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
پالیسی میں محکمہ صحت، تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے بھی خواجہ سرا افراد کی بحالی اور مرکزی دھارے میں شمولیت سے متعلق سفارشات کو لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے خواجہ سرا برادری کو باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہوگی۔
غزہ، امریکی تھرموبیرک بموں کے استعمال کا انکشاف، 3 ہزار فلسطینیوں کا وجود ہی ختم
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خواجہ سرا افراد افراد کی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔