City 42:
2026-07-24@01:15:11 GMT

امیر بالاج قتل کیس: سیشن کورٹ میں سماعت26 فروری تک ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

سٹی42:سیشن کورٹ میں امیر بالاج قتل کیس کی سماعت کے دوران ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت 26 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہوں کو طلب کر لیا۔

ایڈیشنل سیشن جج اعجاز بوسال نے امیر بالاج قتل کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت شوٹر مظفر کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر مریم زاہد کی جگہ ڈاکٹر محمد اسلم کا بیان قلمبند کیا گیا۔

کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک

بیان کے بعد ملزمان ہارون اور بلاول کے وکیل کے پی رائے ایڈووکیٹ نے گواہ پر جرح کی۔ عدالت نے کیس کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کارروائی 26 فروری تک ملتوی کر دی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق کیس میں اب تک چار گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔ چوہنگ پولیس نے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر رکھا ہے۔

کیس کے دیگر ملزمان میں احسن شاہ اور طیفی بٹ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ گوگی بٹ تاحال مفرور ہے۔ یاد رہے کہ امیر بالاج کو ایک شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔

رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 امیر بالاج

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے