امیر بالاج قتل کیس: سیشن کورٹ میں سماعت26 فروری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سٹی42:سیشن کورٹ میں امیر بالاج قتل کیس کی سماعت کے دوران ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت 26 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے مزید گواہوں کو طلب کر لیا۔
ایڈیشنل سیشن جج اعجاز بوسال نے امیر بالاج قتل کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت شوٹر مظفر کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر مریم زاہد کی جگہ ڈاکٹر محمد اسلم کا بیان قلمبند کیا گیا۔
کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک
بیان کے بعد ملزمان ہارون اور بلاول کے وکیل کے پی رائے ایڈووکیٹ نے گواہ پر جرح کی۔ عدالت نے کیس کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کارروائی 26 فروری تک ملتوی کر دی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق کیس میں اب تک چار گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔ چوہنگ پولیس نے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر رکھا ہے۔
کیس کے دیگر ملزمان میں احسن شاہ اور طیفی بٹ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ گوگی بٹ تاحال مفرور ہے۔ یاد رہے کہ امیر بالاج کو ایک شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 امیر بالاج
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔