data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے، جس سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو گزشتہ روز بانی پی ٹی ائی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تھا اور اسی فیصلے کے تحت بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے طویل ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے مقررہ وقت کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے۔

سلمان صفدر کے مطابق رپورٹ 22 پیراگراف اور سات صفحات پر مشتمل ہے، اور اسے جمع کرانے کے لیے انہیں صبح 12 بجے تک کی مہلت دی گئی تھی، جس کا وہ باقاعدہ احترام کرتے ہوئے وقت پر پیش ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ میں عمران خان کی صحت یا ذاتی معاملات پر کوئی بیان شامل نہیں کیا گیا اور تمام خبریں جو ان حوالے سے منظر عام پر آئیں، غیر مستند اور فرضی ہیں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کہا کہ وہ قابل ستائش سمجھتے ہیں کہ عدالت اور علمیہ خان صاحبہ نے ملاقات کے دوران مکمل تعاون اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا، رپورٹ عدالت کے لیے پیش کی گئی ہے تاکہ معاملے کی قانونی اور آئینی نوعیت کا درست جائزہ لیا جا سکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے عمران خان سے وکلا کی ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی تھی جو چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو بطور فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ وہ اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کی حالت، سہولیات اور دیگر معاملات کا خود جائزہ لیں اور اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ملاقات کے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ