سپریم کورٹ کی جانب سے ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر کیے گئے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد اپنی 7 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان صفدر نے کہا کہ انہوں نے عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور اپنی استعداد کے مطابق ذمہ داری نبھائی۔

یہ بھی پڑھیں:

انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں میڈیا میں بے بنیاد خبریں نشر کی گئیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کو بھی واضح کیا کہ وہ ملاقات سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کر سکتے، جس پر دونوں نے ان کے مؤقف سے اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں:

بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کے حوالے سے سوال پر سلمان صفدر نے کہا کہ اس بارے میں مختلف غلط خبریں چلائی گئیں۔

تاہم وہ اس معاملے پر مزید بات نہیں کر سکتے کیونکہ تمام تفصیلات رپورٹ میں درج کر دی گئی ہیں۔

ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک نہیں، سلمان صفدر نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے کیونکہ رپورٹ میں سب کچھ تحریر کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:

’صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ رپورٹ 7 صفحات اور 22 پیراگراف پر مشتمل ہے، جو ایک جامع رپورٹ ہے، جو دیکھا اور سنا، سب ایمانداری سے درج کیا، یہ سپریم کورٹ کی امانت تھی جو جمع کرادی۔‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ قرار دیتے ہوئے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔

جس کے بعد سلمان صفدر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں 3 گھنٹے سے زائد وقت گزارا تھا، تاہم ملاقات کے بعد بھی انہوں نے میڈیا کو کسی قسم کی تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل رپورٹ سپریم کورٹ سلمان صفدر عمران خان ملاقات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل رپورٹ سپریم کورٹ ملاقات بانی پی ٹی آئی سپریم کورٹ اڈیالہ جیل انہوں نے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ