سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ آج سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ کی جانب سے فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیے جانے والے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے ملاقات کرلی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات قریباً 3 گھنٹے تک جاری رہی، ملاقات کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے اور میڈیا سے باضابطہ گفتگو نہیں کی۔
تاہم مختصر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق خان صاحب تک مکمل رسائی دی گئی، رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کرانے تک مناسب نہیں کچھ کہوں ، دیکھ لیں تین گھنٹے کے بعد باہر آیا ہوں، خان صاحب کی صحت ٹھیک ہے۔
کینیڈا: برٹش کولمبیا میں سکول اور گھر میں فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک
اطلاعات کے مطابق بیرسٹر سلمان صفدر ملاقات کی تفصیلی رپورٹ آج سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے انہیں عدالتی نمائندہ مقرر کیا تھا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حالتِ زار اور انہیں دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی تحریری رپورٹ پیش کریں۔
میری رائے میں پاکستان اور بھارت واقعی شدید لڑائی لڑ رہے تھے: ٹرمپ
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی بانی پی ٹی آئی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کل سلمان صفدر ملاقات کے بعد رپورٹ پیش کریں، ہم رپورٹ دیکھ کر پرسوں سماعت کریں گے، بعد ازاں عدالت نے سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بانی پی ٹی
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز