افغانستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شامل، عالمی تنظیم کی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
افغانستان کو شفافیت کی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2025 کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں دوبارہ دنیا کے سب سے بدعنوان ممالک میں شامل قرار دیا گیا ہے، جہاں ملک کی پوزیشن اس سال مزید نیچے چلی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان: شفافیت اور احتساب کا انڈیکس جاری، 67 فیصد عوام کو بدعنوانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا
رپورٹ کے مطابق افغانستان نے 100 میں سے صرف 16 پوائنٹس حاصل کیے ہیں اور 182 ممالک میں 169 ویں مقام پر رہا، جو گزشتہ سال کے اسکور 17 اور 165 ویں درجہ سے مزید تنزلی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا یہ انڈیکس عوامی شعبے میں بدعنوانی کے تاثر کو صفر (انتہائی بدعنوان) سے لیکر 100 (انتہائی شفاف) کے پیمانے پر ناپتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سمیت کئی دیگر ممالک میں بدعنوانی کی صورتحال تشویشناک حد تک برقرار ہے، خاص طور پر ایسے ممالک جہاں شہری آزادی، شفاف سیاسی مالیات اور آزاد عدلیہ جیسے عوامل محدود ہیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں دنیا کے سب سے کم بدعنوان ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، سنگاپور، نیوزی لینڈ اور ناروے کو شامل کیا گیا ہے۔
اسی فہرست میں سب سے بدعنوان ممالک کے طور پر جنوبی سوڈان، صومالیہ، وینزیویلا، یمن اور لیبیا کے نام سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا
رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ گلوبل اوسط سی پی آئی اسکور 42 تک گر گئی ہے، جو گزشتہ دہائی میں پہلی بار اس سطح تک پہنچا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات کمزور پڑ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغانستان بدعنوانی عالمی تنظیم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان بدعنوانی عالمی تنظیم وی نیوز ممالک میں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی