ٹی ٹی پی پاک افغان، پاکستان کشیدگی میں اضافہ کا سبب ہے: اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی کے باعث پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغان طالبان کا بیانیہ خاک میں ملا دیا۔
سکیورٹی کونسل رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی نگرانی ٹیم کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی خطے کیلئے تشویش ہے اور افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان حکام کا یہ دعویٰ کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، کسی رکن ملک نے تسلیم نہیں کیا، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ آزادی اور سہولت ملی جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف حملے بڑھے اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
سیکورٹی کونسل رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ القاعدہ کو افغانستان میں سرپرستی حاصل رہی اور اس نے بالخصوص ٹی ٹی پی کو تربیت اور مشاورت فراہم کی،القاعدہ برصغیر کی قیادت کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں اور بیرونی کارروائیوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب اِس بات کی بھی تصدیق ہوئی کہ اسلام آباد کی عدالت پر حملہ ایک خطرناک رخ کی نشاندہی کرتا ہے اور اس واقعے میں بارہ شہادتیں ہوئیں، پاکستانی کارروائی میں ٹی ٹی پی کے نائب امیر دہشت گرد خارجی مزاحم کی ہلاکت دہشت گردوں
رپورٹ میں بتایا گیا کہ داعش خراسان شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب فعال ہے اور قابلِ ذکر صلاحیت رکھتی ہے، افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی / نیٹو ہتھیاروں کے ذخائر نے پاکستان میں ٹی ٹی پی حملوں کی مہلکیت بڑھا دی، ٹی ٹی پی نے جدید ہتھیار، رات میں دیکھنے والے آلات اور ڈرون نظام استعمال کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔