ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک:محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے 26 بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں کو مراسلے جاری کر دیے ہیں۔
ڈائریکٹر موٹرز لاہور شاہد گیلانی کی جانب سے جاری مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 18 ہزار گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس واجبات ادا نہیں کیے گئے، جن میں بڑی تعداد بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی ہے۔
مراسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ٹوکن ٹیکس ادا کریں، بصورت دیگر واجب الادا ٹیکس کے برابر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا ہے کہ عدم ادائیگی کی صورت میں نادہندہ گاڑیوں کی رجسٹریشن سسٹم میں منسوخ کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک
ڈائریکٹر موٹرز کے مطابق شہر بھر میں 8 مقامات پر ہفتے میں دو روز ناکہ بندی کی جا رہی ہے اور رواں ماہ سے چالان اور گاڑیاں بند کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
شاہد گیلانی نے بتایا کہ ٹوکن ٹیکس کی مد میں اب تک 6 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی جا چکی ہے، جبکہ 3 لاکھ سے زائد نادہندہ گاڑیوں سے تقریباً ساڑھے 3 ارب روپے کے واجبات ابھی باقی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ساڑھے 15 ارب روپے سے زائد کی وصولی کی گئی ہے۔
رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹوکن ٹیکس
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔