ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آسٹریلوی کپتان مچل مارش انجرڈ، اسٹیو اسمتھ سری لنکا طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
آسٹریلیا کے اسٹار آل راؤنڈر اور ٹی ٹوئنٹی کپتان مچل مارش انجری کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں آئرلینڈ کے خلاف افتتاحی میچ میں حصہ نہیں لے سکے۔
تفصیلات کے مطابق کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں آئرلینڈ کے خلاف کھیلے جارہے میچ میں ٹیم کی قیادت ٹریوس ہیڈ کررہے ہیں۔
مچل مارش کو اتوار کو ٹریننگ سیشن کے دوران سائیڈ آرم تھرو ڈاؤن کے دوران گرون ایریا میں شدید چوٹ لگی تھی جس کے باعث وہ فوری طور پر نیٹس سے باہر چلے گئے تھے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق اسکین میں اندرونی چوٹ کی تصدیق ہوئی ہے اور انہیں مکمل آرام اور بحالی کی ضرورت ہے۔
Mitch Marsh has been ruled out of Australia's #T20WorldCup opener, with Steve Smith set to head to Sri Lanka.
Details here: https://t.co/lugZUFllzJ pic.twitter.com/MFEdVA9eZa — cricket.com.au (@cricketcomau) February 11, 2026
مچل مارش کی اگلے میچ میں زمبابوے کے خلاف بھی شرکت مشکوک ہے۔
مارش کی عدم موجودگی میں میتھیو رینشا کو پہلی بار ورلڈ کپ الیون میں شامل کیا گیا ہے جبکہ جوش انگلس کو ٹریوس ہیڈ کا اوپننگ پارٹنر بنایا گیا ہے۔
اسٹیو اسمتھ بطور اسٹینڈ بائی سری لنکا روانہ ہوں گے اور ضرورت پڑنے پر انہیں اسکواڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مچل مارش
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔