امریکا نے افغانستان میں امدادی رقوم کے غلط استعمال کی روک تھام کیلیے قانون سازی شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ایک ایکٹ منظور کیا ہے جسے ’ نو ٹیکس ڈالرز فار ٹیررسٹس ایکٹ‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کسی دہشتگرد تنظیم کو فائدہ نہ پہنچائے، خصوصاً افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے تناظر میں۔
یہ قانون اس امر پر زور دیتا ہے کہ امریکی مالی معاونت اور بیرونی امدادی پروگراموں کو اس انداز میں منظم کیا جائے کہ ان سے کسی بھی دہشتگرد گروہ کو فائدہ نہ ہو۔
امدادی رقوم کے غلط استعمال پر خدشات2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں بڑی مقدار میں بین الاقوامی اور انسانی امداد کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم، مؤثر نگرانی کے فقدان کے باعث خدشات ظاہر کیے جاتے رہے کہ طالبان نے امدادی رقوم پر ٹیکس عائد کیا، انہیں موڑا یا زبردستی وصول کیا، جس سے ان کی مالی طاقت میں اضافہ ہوا اور مبینہ طور پر دہشتگرد نیٹ ورکس کو تقویت ملی۔
دسمبر 2025 میں امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کی رپورٹ کے مطابق، کابل کے سقوط کے بعد سے امریکا تقریباً 4 ارب ڈالر طالبان حکومت کو فراہم کر چکا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی امدادی اداروں نے تقریباً 8 ارب ڈالر ترقیاتی منصوبوں کے لیے فراہم کیے، جبکہ افغانستان ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ (ARTF) کے تحت تقریباً 1.
مختلف واچ ڈاگ رپورٹس کے مطابق افغانستان کی تعمیر نو کے لیے مختص اربوں ڈالر بدعنوانی اور دھوکہ دہی کی نذر ہوئے، جس سے نگرانی اور شفافیت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔
بین الاقوامی رپورٹس اور بدعنوانی کے اشاریےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں اور حالیہ 37ویں مانیٹرنگ ٹیم رپورٹس میں بھی افغانستان میں امدادی رقوم کے ممکنہ غلط استعمال اور دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
4 فروری 2026 کو جاری 37ویں رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی بدستور باعثِ تشویش ہے، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی اور فوجی جھڑپیں ہوئیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025 میں افغانستان کو 182 ممالک میں سے 169واں نمبر دیا گیا، جس سے بدعنوانی کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔
علاقائی اور جغرافیائی مضمراتیہ قانون محض مالی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے وسیع تر جغرافیائی اور علاقائی سلامتی کے خدشات بھی کارفرما ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کو اندیشہ ہے کہ اگر امدادی رقوم پر سخت کنٹرول نہ رکھا گیا تو شدت پسند تنظیمیں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
پاکستان پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان میں موجود پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ اندازاً 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں جبکہ تقریباً 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں وہاں سرگرم بتائی جاتی ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عملنو ٹیکس ڈالرز فار ٹیررسٹس ایکٹ کے تحت امریکا ایسی حکمت عملی ترتیب دے گا جس سے امدادی رقوم کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی شمولیت واضح شرائط اور قابلِ تصدیق اقدامات سے مشروط ہونی چاہیے، جن میں دہشتگرد گروہوں کی حمایت اور پناہ گاہوں کا خاتمہ، تمام نسلی گروہوں کی شمولیت، خواتین کے حقوق اور صنفی امتیاز کا خاتمہ اور انسانی حقوق کی پاسداری شامل ہوں۔
یہ قانون افغانستان میں امدادی سرگرمیوں کے لیے مالی احتساب اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کی ایک اہم امریکی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امدادی رقوم کے افغانستان میں بین الاقوامی کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔