دیامر، چلاس میں امن اور ترقی کے لیے گرینڈ جرگے کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
کمانڈر ایف سی این اے نے واضح کیا کہ دیامر کے امن پسند عوام کے تعاون سے دہشت گردی اور شرپسندی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ قراقرم ہائی وے کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ دیامر چلاس میں امن و ترقی کیلئے گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا۔ جرگے میں کمانڈر ایف سی این اے، اسسٹنٹ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، آئی جی پولیس، نمائندگان عبوری حکومت، مقامی عمائدین، علمائے کرام اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگے میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں دیامر بھاشا ڈیم کی بروقت تکمیل کو خطے کی معاشی ترقی کے لیے کلیدی منصوبہ قرار دیا گیا۔ تعلیم کے شعبے میں بہتری، بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے فروغ اور تعلیمی سہولیات میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔ کمانڈر ایف سی این اے نے واضح کیا کہ دیامر کے امن پسند عوام کے تعاون سے دہشت گردی اور شرپسندی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ قراقرم ہائی وے کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور خطے کے امن و استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔جرگے کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دیامر کے امن، اتحاد اور ترقی کے لیے سب مل کر کام کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جائے گا کے امن کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔