دہشت گردی کا اصل چہرہ تکفیریت ہے، علامہ سید جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ٹی بی یو ایم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پوری قوم یک زبان ہو کر تکفیریت کے خلاف کھڑی ہو، جبکہ ریاستی اور قانونی ادارے ان گروہوں کے خلاف واضح، منظم اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک واقعے میں سامنے آنے والی سکیورٹی کوتاہیوں، خصوصاً دارالحکومت میں موجود حفاظتی خلا، کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر، عملی اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونیوالے خودکش دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمن جرم قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ صدمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حملے کی ذمہ داری کسی اور سمت موڑنے کے بجائے اصل مجرموں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے، اور وہ مجرم تکفیری دہشت گرد گروہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق سے نظریں چرا کر رخ بدلنا دراصل انہی عناصر کو بالواسطہ تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
علامہ سید جواد نقوی نے زور دیا کہ پوری قوم یک زبان ہو کر تکفیریت کے خلاف کھڑی ہو، جبکہ ریاستی اور قانونی ادارے ان گروہوں کے خلاف واضح، منظم اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک واقعے میں سامنے آنے والی سکیورٹی کوتاہیوں، خصوصاً دارالحکومت میں موجود حفاظتی خلا، کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے، ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر، عملی اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔ محض رسمی بیانات نہیں بلکہ زمینی حکمتِ عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر، بالخصوص اسلام آباد میں سرگرم تکفیری گروہوں کے فکری اور عملی نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک سانحات کا مؤثر سدباب ممکن ہو۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے یہ حملے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، اور اتحاد، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ان سازشوں کا مقابلہ ہی ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کا واحد راستہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔