سعودی وزارت سرمایہ کاری اور پاکستان ریجنل اکنامک فورم کے درمیان زرعی شعبے میں سرمایہ کاری پر اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان ریجنل اکنامک فورم کے ساتھ دو طرفہ اجلاس منعقد کیا جس میں پاکستان کے زرعی شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اورسعودی عرب کا سیکیورٹی و انسدادِ دہشت گردی تعاون بڑھانے پر اتفاق
سعودی وفد میں نادک، لین الخیر اور الرشید ہولڈنگ کے نمائندگان شامل تھے۔ اجلاس میں سفارت خانۂ پاکستان، ریاض کی وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری ڈاکٹر شگفتہ زرین اور سعودی وزارتِ سرمایہ کاری کے نمائندے مشاری الہدیب بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران زرعی اور ایگری بزنس کے شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کے امکانات، تکنیکی تعاون، ویلیو چین ڈویلپمنٹ اور باہمی شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے زرعی پیداوار، فوڈ سیکیورٹی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک عمل کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب میں ابھرتی معیشتوں کی العلا کانفرنس 2026 کا آغاز، عالمی اقتصادی چیلنجز پر غور
پاکستان ریجنل اکنامک فورم کی نمائندگی چیئرمین و سابق وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری ہارون شریف، سابق وزیر سی پیک و سینئر فیلو خالد منصور اور ریٹائرڈ وائس ایڈمرل ہاشم خان (سابق نائب سربراہ پاک بحریہ و سابق سفیر پاکستان برائے سعودی عرب) نے کی۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب امریکا کے بعد بوئنگ کا بڑا شراکت دار، عالمی دفاعی نمائش میں انکشاف
ملاقات کو دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کا مظہر قرار دیا گیا جبکہ زرعی شعبے کو اسٹریٹجک شراکت داری اور پائیدار سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم میدان قرار دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الرشید ہولڈنگ پاکستان ریجنل اکنامک فورم سعودی عرب لین الخیر نادک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الرشید ہولڈنگ پاکستان ریجنل اکنامک فورم لین الخیر پاکستان ریجنل اکنامک فورم سرمایہ کاری کے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔