Jasarat News:
2026-07-24@00:47:01 GMT

پی ایس ایل سیزن 11 آکشن، کھلاڑیوں کی بولی جاری

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کی پلیئرز آکشن تقریب لاہور کے ایکسپو سینٹر میں رنگا رنگ انداز میں منعقد ہوئی، جہاں ملک و غیر ملکی کھلاڑیوں کے حصول کے لیے تمام آٹھ فرنچائزز کے درمیان بھرپور مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

ذرائع کے مطابق جدید اسپورٹس اسٹیج، ڈیجیٹل سسٹم اور براہِ راست نشریات کے ذریعے ہونے والی اس تقریب میں فرنچائز مالکان، ٹیم مینجمنٹ، کوچز اور کرکٹ ماہرین نے خصوصی شرکت کی، پلیئرز آکشن کے لیے ہر فرنچائز کو 16 لاکھ ڈالرز کا مجموعی بجٹ فراہم کیا گیا تھا، تاہم ریٹین کیے گئے کھلاڑیوں کے بعد ٹیموں کے پرس میں مختلف رقوم باقی رہ گئیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ اور راولپنڈی کی ٹیم کے پاس سب سے زیادہ 34 کروڑ 60 لاکھ روپے موجود تھے جبکہ کراچی کنگز کے پاس 32 کروڑ 26 لاکھ، لاہور قلندرز کے پاس 31 کروڑ 36 لاکھ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پاس 27 کروڑ 54 لاکھ، پشاور زلمی کے پاس 27 کروڑ 96 لاکھ، سیالکوٹ اسٹالینز کے پاس 23 کروڑ 34 لاکھ اور کنگز مین حیدرآباد کے پاس 21 کروڑ 94 لاکھ روپے دستیاب تھے۔

اس سیزن کے لیے مجموعی طور پر 880 ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی جبکہ دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد پی ایس ایل میں فرنچائزز کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔

ورلڈکپ اسکواڈ کا حصہ بننے والے غیر ملکی کھلاڑی ویڈیو لنک کے ذریعے آکشن میں شریک ہوئے۔ پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ سے ہوگا، جس کے لیے تمام ٹیمیں مضبوط اسکواڈ کی تشکیل میں مصروف دکھائی دیں۔

آکشن کے دوران آل راؤنڈرز کی کیٹیگری میں سب سے زیادہ توجہ فہیم اشرف نے حاصل کی، جنہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خرید کر مہنگے ترین کھلاڑیوں میں شامل کر لیا۔ اس کے برعکس عماد وسیم سمیت محمد جنید، مہدی حسن معراج، حسین طلعت، آصف آفریدی اور محمد ذیشان کو کسی بھی فرنچائز نے ٹیم کا حصہ نہیں بنایا، جو شائقین کے لیے خاصا حیران کن لمحہ ثابت ہوا۔

بیٹنگ کیٹیگری میں بھی کئی بڑے ناموں پر خاموشی چھائی رہی۔ قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل، جو گزشتہ سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان تھے، اس بار کسی بھی ٹیم کی توجہ حاصل نہ کر سکے، سیالکوٹ اسٹالینز نے جہانزیب سلطان کو 60 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جنوبی افریقہ کے رائلی روسو پر 5 کروڑ 55 لاکھ کی بڑی بولی لگائی۔

کراچی کنگز نے آسٹریلوی اسٹار بیٹر ڈیوڈ وارنر کو 7 کروڑ 90 لاکھ روپے میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا، جو بیٹنگ کیٹیگری کی مہنگی ترین خریداریوں میں شامل رہی۔ اس کے برعکس کولن منرو، کائل میئرز، عمیر بن یوسف، کامران غلام، محمد ریاض اللہ اور سری لنکا کے دلشان مدوشانکا سمیت کئی معروف بیٹرز ان سولڈ رہے۔

فاسٹ بولرز کے شعبے میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ راولپنڈی نے نسیم شاہ کو 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں حاصل کیا، جبکہ لاہور قلندرز نے حارث رؤف کو 7 کروڑ 60 لاکھ میں ٹیم میں شامل کیا۔ حیدرآباد کنگز مین نے محمد علی کو 2 کروڑ 15 لاکھ روپے میں خریدا۔ تاہم محمد حسنین، رومان رئیس، احسان اللہ اور انگلینڈ کے کرس جورڈن سمیت کئی فاسٹ بولرز کو کسی بھی ٹیم نے نہیں اپنایا۔

وکٹ کیپرز کی کیٹیگری میں سیالکوٹ اسٹالینز نے صاحبزادہ فرحان کو 5 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ کراچی کنگز نے اعظم خان کے لیے 3 کروڑ 25 لاکھ کی بولی لگائی۔ دوسری جانب محمد اخلاق، بین میکڈرموٹ، دنیش چندی مل، جانسن چارلس اور راجاپکسا جیسے معروف وکٹ کیپرز بھی ٹیموں کی فہرست میں جگہ نہ بنا سکے۔

اسپنرز کے شعبے میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے مہران ممتاز کو 1 کروڑ 25 لاکھ روپے میں منتخب کیا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے فیصل اکرم کو اسی قیمت پر حاصل کیا، جبکہ راولپنڈی نے بنگلادیش کے رشاد حسین کو 3 کروڑ روپے میں ٹیم کا حصہ بنایا۔ تاہم مومن قمر، علی ماجد، زاہد محمود، عارف یعقوب اور کیشو مہاراج جیسے تجربہ کار اسپنرز کسی بھی فرنچائز کی ترجیح نہ بن سکے۔

آکشن کے دوسرے مرحلے میں بھی کئی بڑی بولیاں لگیں۔ کراچی کنگز نے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کو 5 کروڑ 85 لاکھ روپے میں حاصل کیا، لاہور قلندرز نے فخر زمان کو 7 کروڑ 95 لاکھ اور اسامہ میر کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے میں اپنی ٹیم میں شامل کیا۔

راولپنڈی نے نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل کو 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے آسٹریلوی میکس برائنٹ کو 1 کروڑ 95 لاکھ اور مارک چیپ مین کو 7 کروڑ روپے میں منتخب کیا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جہانداد خان اور عرفات منہاس کو بھی اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔

فاسٹ بولرز کے دوسرے مرحلے میں راولپنڈی نے محمد عامر کو 5 کروڑ 40 لاکھ، پشاور زلمی نے خرم شہزاد کو 2 کروڑ 70 لاکھ اور لاہور قلندرز نے عبید شاہ کو 2 کروڑ 70 لاکھ روپے میں منتخب کیا۔

کراچی کنگز نے شاہد عزیز پر 92 لاکھ 50 ہزار اور عرفان خان نیازی پر 2 کروڑ 90 لاکھ کی بولی لگائی۔ اس کے علاوہ کراچی کنگز نے آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زمپا کو 4 کروڑ 50 لاکھ اور میرحمزہ کو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

دلچسپ امر یہ رہا کہ کئی عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی اس بار بھی ٹیموں کی توجہ حاصل نہ کر سکے، جن میں شکیب الحسن، جیسن روئے، عثمان خواجہ، برینڈن کنگ، داسن شناکا، ایون لوئس، الزاری جوزف اور ٹم ملز شامل ہیں، جو ان سولڈ رہنے والے نمایاں نام رہے۔

کرکٹ حلقوں کے مطابق اس سال کی آکشن نے واضح کر دیا ہے کہ فرنچائزز نوجوان، فٹ اور جارحانہ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔ متوازن اسکواڈز کی تشکیل کے بعد اب تمام ٹیمیں پی ایس ایل سیزن 11 میں سخت مقابلے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں، جبکہ شائقین کو ایک بار پھر سنسنی خیز کرکٹ دیکھنے کی توقع ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام آباد یونائیٹڈ لاکھ روپے میں خریدا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کراچی کنگز نے لاہور قلندرز راولپنڈی نے ٹیم کا حصہ لاکھ اور کو 2 کروڑ حاصل کیا کو 7 کروڑ کسی بھی حاصل کی بھی ٹیم کے پاس کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف