وزیر دفاع کا رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیر دفاع کا رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے رمضان سے پہلے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اس لیے رمضان سے پہلے وہاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
منگل کو ایک انٹرویو میں مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ آصف نے افغانستان کی صورت حال، سکیورٹی چیلنجز اور ملکی سیاست پر کھل کر بات کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ نہیں رک رہا، اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا۔وزیر دفاع نے کہا کہ تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے، کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس آنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سیاست بذات خود ثبوت ہے کہ انہوں نے لمبا سفر طے کیا ہے، میاں صاحب کا 99، 93 میں سیاست پر جو اعتماد سامنے آیا وہ سب نے دیکھا، ہم نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن محمود خان اچکزئی کے پاک فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے پاکستان افواج 4 ضلعوں کی فوج ہونے کا بیان دیا، اس غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں تھی، افواج کسی ضلع یا صوبے کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے جو دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں۔رہنما ن لیگ نے مزید کہا کہ ہر شخص کو اپنے نظریات رکھنے کا حق ہے لیکن قومی اداروں پر حملہ کرنا مناسب نہیں، ایسے بیانات سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔وزیر دفاع نے گزشتہ 5 سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جام شہادت نوش کرنے والوں کی تفصیلات بھی پیش کردیں۔انہوں نے بتایا کہ 2021 سے 10 فروری 2026 تک شہدا کی مجموعی تعداد 3141 رہی، شہدا کی یہ قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کی علامت ہیں۔خواجہ آصف کے مطابق ملکی دفاع اور امن کے لیے تمام صوبوں نے نمایاں قربانیاں پیش کیں، شہدا میں 170 افسران، 212 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 2759 جوان شامل ہیں۔ پنجاب سے سب سے زیادہ 1657 شہدا نے وطن پر قربانیاں دیں، خیبر پختونخوا میں شہدا کی تعداد 534 ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح سندھ سے 452 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ آزاد کشمیر سے 234 شہدا کی قربانیاں ریکارڈ ہوئیں جب کہ گلگت بلتستان میں 161 اور بلوچستان میں 103 اہلکار شہید ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کی حفاظت کے لیے کتنی بڑی قربانیاں دی جا رہی ہیں، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 200 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔وزیر دفاع کے مطابق یہ کارروائیاں ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔سیاست پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بعض سیاست دان ایک گرے ایریا میں رہتے ہیں اور ذاتی مفادات کی جنگ لڑتے ہیں، سیاست دان پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں لیکن جو فوجی شہید ہوتے ہیں وہ اپنے عہد اور وفاداری نہیں بدلتے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی مفاد کو ذاتی اور سیاسی مفادات پر فوقیت دی جانی چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کے زیر اہتمام شکرپڑیاں کے مقام پر بہار شجرکاری مہم 2026 کاانعقاد حکومتِ جاپان، یو این اور جائیکا کا خیبر پختونخوا میں اسکولوں کی آفات سے تحفظ کی صلاحیت بڑھانے کیلئے معاہدہ وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس سانحہ ترلائی اسلام آباد کی شدید مذمت، الزہرا انٹرنیشنل قرآنک انسٹی ٹیوٹ کی افتتاحی تقریب کامیابی سے منعقد ایف آئی اے افسران کیلئے وردی پہننا لازمی، ڈی جی کا بڑا حکم جاری،تفصیلات سب نیوز پر قازقستان کے سفیر کی وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے ملاقات،ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق فیشن ڈیزائننگ یونیورسٹی میں بڑا سکینڈل؟ سینیٹ قائمہ کمیٹی کا سخت ایکشنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رمضان سے پہلے وزیر دفاع
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔