فوج مخالف بیان ، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
فوج مخالف بیان ، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات کھٹائی میں پڑنیکا خدشہ پیدا ہو گیا، اپوزیشن لیڈر چیمبر کی بار بار کوشش کے باوجود وزیراعظم آفس سے ملاقات کا تاحال حتمی شیڈول نہیں دیاگیا ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی رواں ہفتے محمود اچکزئی سے ملاقات کا پیغام پی ٹی آئی کو دیا گیا تھا،لیکن ملاقات میں تاخیر کی ممکنہ وجہ محمود اچکزئی کے فوج مخالف بیانات ہیں، سینئر رہنماوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو محمود اچکزئی سے فی الحال ملاقات نہ کرنیکا مشورہ دیا ہے ۔ موقف اپنایا کہ اس وقت محمود اچکزئی سے ملاقات پر اچھا پیغام نہیں جائیگا۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے اس حوالے سے کہا کہ معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، جب ملاقات ہو گی تو بتا دیں گے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخواجہ آصف افواج کے کندھے پر بیٹھ کر سیاست نہ کریں، بیرسٹر گوہر خواجہ آصف افواج کے کندھے پر بیٹھ کر سیاست نہ کریں، بیرسٹر گوہر اسلام آباد پولیس کا علاقہ تھانہ بہارہ کہو میں گرینڈ سرچ اینڈ کومنگ آپریشن،5افغانیوں سمیت 6مشکوک افراد تھانے منتقل چیف جسٹس کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ، ججز کیخلاف 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا الیکشن کمیشن نے معلومات تک رسائی کے حق کی ریگولیشنز جاری کر دیں بیرسٹر سلمان صفدر نے عمران خان سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ہر ظلم کا حساب لیں گے، سہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔