انہوں نے اپنے خطاب میں انقلابِ اسلامی ایران کو عصرِ حاضر میں اسلامی بیداری، عوامی شعور اور استبداد کے خلاف ایک عملی نمونہ قرار دیا اور کہا کہ یہ انقلاب صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کیلئے امید اور حوصلے کا سرچشمہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بٹھنڈی جموں میں انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایک شاندار اور پُروقار جشن کی تقریب منعقد ہوئی۔ جس کا اہتمام شیعہ فیڈریشن جموں، انجمنِ حسینی بٹھنڈی، جامعہ امام خمینی کرگل، انجمن صاحبِ زمان سانکو اور رحمۃ للعالمین فاؤنڈیشن نے باہمی اشتراک سے کیا۔ اس بامقصد تقریب میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور انقلابِ اسلامی ایران سے اپنی عقیدت و وابستگی کا اظہار کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی مولانا شیخ غلام رسول نوری تھے، جبکہ مولانا سید مختار جعفری اور مولانا شیخ صادق رجائی مہمانانِ ذی وقار کے طور پر شریک رہے۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد شیعہ فیڈریشن جموں کے صدر الحاج عاشق حسین خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں انقلابِ اسلامی ایران کو عصرِ حاضر میں اسلامی بیداری، عوامی شعور اور استبداد کے خلاف ایک عملی نمونہ قرار دیا اور کہا کہ یہ انقلاب صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے امید اور حوصلے کا سرچشمہ ہے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں انقلابِ اسلامی ایران کی تاریخ، اس کے فکری پہلوؤں، امام خمینی (رہ) کی قیادت اور رہبرِ انقلاب کی استقامت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مقررین نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں پیش آنے والے دہشتگردانہ واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے انسانیت کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا جبکہ شرکاء نے اس دہشتگردی پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی ایران میں انقلاب

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل