data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ایک تقریب کے دوران سخت سوالات کرنے والی طالبہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا تھا، فیکٹ چیک میں متعلقہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوگیا ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا تھا کہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنے کی پاداش میں طالبہ کے والد کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک مبینہ نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ محکمہ تعلیم کے ایک ملازم کو بغیر اطلاع غیر حاضری اور انکوائری کا جواب نہ دینے پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب تین فروری کو وزیراعلیٰ اور طالبہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بعد چار فروری کی تاریخ کا ایک خط سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، یہ نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری ہوا ہے۔ دستاویز میں بشیر خان نامی کلرک کی برطرفی اور مراعات ختم کرنے کا ذکر تھا جبکہ بعض صارفین نے اسے اس تاثر کے ساتھ شیئر کیا کہ حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی سزا طالبہ کے والد کو دی گئی ہے، یہ پوسٹ ہزاروں افراد تک پہنچی اور متعدد بار شیئر کی گئی۔

فیکٹ چیک کے دوران طالبہ فاطمہ خان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن جعلی ہے، ان کے والد کا نام بشیر خان نہیں اور وہ کبھی محکمہ تعلیم میں ملازم نہیں رہے، ان کے والد ڈاکٹر اخوان خان خیبر پختونخوا کے محکمہ لائیو اسٹاک سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب مبینہ نوٹیفکیشن پر درج چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے بھی اس خط کو من گھڑت قرار دیا جبکہ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ناہید انجم نے تصدیق کی کہ ایسا کوئی حکم نامہ ان کے دفتر سے جاری نہیں کیا گیا۔

فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ کہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنے پر طالبہ کے والد کو ملازمت سے برخاست کیا گیا، سراسر غلط اور بے بنیاد ہے اور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا طالبہ کے والد کیا گیا

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی