ڈھاکہ: (ویب ڈیسک) بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما منظور الاحسن منشی نے پارٹی کو ووٹ نہ دینے والوں کے گھروں کو آگ لگانے کی دھمکی دے دی۔

کومیلا کے علاقے ڈیبیڈوار 4 حلقے سے بی این پی کے سابق امیدوار منظور الاحسن منشی کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ ’اگر بی این پی اقتدار میں آئی اور تم نے کسی اور جماعت کو ووٹ دیا تو میں تم میں سے کسی کو نہیں چھوڑوں گا، ضرورت پڑی تو تمہارے گھر جلا کر راکھ کر دوں گا۔‘

منظور الاحسن منشی کو ووٹرز کو دھمکانے پر الیکشن انکوائری و جوڈیشل کمیٹی نے طلب کر لیا ہے۔

ادھر بی این پی نے معاملہ سامنے آنے کے بعد پارٹی پالیسی اور نظم و ضبط کے خلاف بیانات دینے پر منظور الاحسن منشی کو پارٹی سے نکال دیا ہے، کمیٹی نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ آج ذاتی طور پر پیش ہو کر تحریری وضاحت جمع کروائیں۔

دوسری جانب منظور الاحسن منشی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں انہوں نے ذاتی مایوسی کے عالم میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے سامنے اپنے ہی علاقے میں کی تھیں۔

ان کے مطابق ان کی تقریر کا آخری حصہ جان بوجھ کر ایڈٹ کر کے پھیلایا گیا، جبکہ ایک مخصوص گروہ انہیں متنازع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ منظور الاحسن منشی کومیلا -4 حلقے سے بی این پی کے امیدوار تھے، تاہم قرض نادہندگی سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کے باعث ایپلیٹ ڈویژن کے حکم پر ان کی امیدواری منسوخ کر دی گئی تھی، جس کے بعد بی این پی نے ان کی جگہ اس حلقے سے دوسرا امیدوار کھڑا کردیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: منظور الاحسن منشی بی این پی

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن