ٹرمپ کے فیصلے پر ایرانی میزائلوں کا بھاری سایہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: وال سٹریٹ جرنل واضح طور پر لکھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری کے وسط میں طے شدہ فوجی حملے کو آخری لمحات میں ترک کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب انہیں یقین ہو گیا کہ امریکہ کے پاس ایران کے ممکنہ ردعمل کا مقابلہ کرنے اور علاقائی بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی حد تک طاقت موجود نہیں ہیں۔ یہ بیان بذات خود ایک اہم اعتراف ہے: واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایران سے جنگ ایسی جنگ نہیں جس پر قابو پایا جا سکے۔ خطے میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کو بھی حملے کے لیے تیاری کی علامت کے بجائے ڈیٹرنس کی ناکامی کی صورت میں ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ایسا دفاعی اقدام جو ایرانی ردعمل کے بارے میں پینٹاگون کی گہری تشویش کی نشاندہی کرتا ہے۔ تحریر: علی احمدی
مغربی ایشیا خطے میں رونما ہونے والے حالیہ جیوپولیٹیکل حالات، طاقت کے عالمی توازن میں ایک تاریخی موڑ کی نشاندہی کرتے دکھائی دیتے ہے۔ "امریکہ کے مطلق العنان فضائی تسلط" کے دور کا خاتمہ اور "میزائل طاقت کے توازن" کے دور میں منتقلی ایک ایسی حقیقت ہے جو امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کی تازہ ترین خفیہ رپورٹس اور وال اسٹریٹ جرنل اور معاریو جیسے مستند میڈیا ذرائع کے تجزیات میں کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اپنی افواج کی غیر معمولی تعیناتی، جو ابتدائی طور پر ایران حکومت کو دھمکانے اور رجیم چینج کے لیے انجام پائی تھی، اب زمیننی حقائق سے روبرو ہونے کے بعد اور ایران کے "ہمہ جہت ردعمل پر مبنی ڈاکٹرائن" کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کے پیش نظر، اسٹریٹجک تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ ایران اب محض پابندیوں کے دباؤ کا شکار کھلاڑی نہیں رہا بلکہ اپنے ڈیٹرنس ذرائع کی بدولت مغربی ایشیا میں جنگ اور امن کی مساواتیں اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے۔
ساختی کمزوری سے ڈیٹرنس پاور تک
حتی وال سٹریٹ جرنل جیسا اخبار، جو ہمیشہ سے ایران کے بارے میں شدت پسندانہ اور سیکورٹی پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ انقلاب کے بعد ابتدائی عشروں میں ایران کا میزائل پروگرام اپنی کچھ ساختی کمزوریوں کو دور کرنے کا ایک راستہ تھا۔ ان کمزوریوں میں جدید فضائیہ کی کمی، ہتھیاروں کی درآمد پر پابندیاں اور بین الاقوامی تنہائی شامل تھی۔ تاہم، ضرورت اور دباؤ کے ماحول میں تشکیل پانے والا یہی میزائل پروگرام رفتہ رفتہ ایران کی ڈیٹرنس پاور کا بنیادی ستون بن کر سامنے آیا۔ مغربی ماہرین کے بقول ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائل آج ایک کثیر جہتی کردار ادا کر رہے ہیں جن میں ڈیٹرنس ٹول، سیاسی دباؤ کا ہتھکنڈہ اور جوابی ردعمل کی صلاحیت شامل ہیں۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب خود امریکی تجزیہ کار بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایراننے میزائل طاقت کے ذریعے فضائیہ کی کمزوری کا ازالہ کیا ہے۔
اعدادوشمار اور جغرافیہ کی حقیقت
دشمن ممالک کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً 2 ہزار بیلسٹک میزائل کا مالک ہے جو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین سے لے کر خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں تک پورے خطے میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، اینٹی شپ کروز میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کے اہم ذخیرے نے جہاز رانی کے اصلی راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ بڑھا دیا ہے۔ اس جغرافیائی فوجی حقیقت نے وائٹ ہاؤس پر براہ راست دباؤ ڈال رکھا ہے اور اس حقیقت کا اعتراف عبرانی ذرائع ابلاغ بھی کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایران پر حملہ کرنے کا کوئی بھی فیصلہ لامحالہ اسرائیل، امریکی افواج اور خلیج فارس میں واشنگٹن کے عرب اتحادیوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔
ایک ایسا تجربہ جسے نظر انداز نہیں کیا گیا
اگرچہ کچھ مغربی تجزیہ کاروں کی نظر میں ایران پر غاصب صیہونی رژیم کی بارہ روزہ فوجی جارحیت ایک "فیصلہ کن دھچکا" ثابت نہیں ہو سکی لیکن وہ اہم تزویراتی پیغامات کا حامل ضرور تھی۔ ایران نے اسرائیل پر بڑی تعداد میں میزائل داغنے کے ساتھ ساتھ اپنے میزائلوں کے اسٹریٹجک ذخیرے کا بڑا حصہ کامیابی سے محفوظ بھی رکھا۔ حتی کچھ لانچنگ پیڈز اور ذخائر پر اسرائیل کے بھاری فضائی حملوں کے باوجود موصولہ رپورٹس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں کمزور نہیں ہوئیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مغربی ماہرین کے بقول ایران نے اسی محدود محاذ آرائی کے دوران یہ بھی سیکھ لیا کہ کس طرح اپنے میزائلوں کو اسرائیل اور امریکہ کے سلسہ وار دفاعی نظام سے بچا کر اہداف تک پہنچا جا سکتا ہے؟ یہ مہارت ایک وسیع جنگ کی صورت میں طاقت کے توازن کو غیر متوقع طور پر بدل سکتی ہے۔
امریکہ کے اندرونی حلقوں کا اعتراف
حتی مغربی سیکورٹی اداروں کے قریبی تجزیہ کار بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایران کے میزائل "ڈیٹرنس مجبور کرنے اور سزا دینے" کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہ اعتراف اس وقت زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی حکام ایران پر زور دیتے ہیں کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام کا ایشو بھی شامل کیا جائے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی ساز حلقے بھی ملتے جلتے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ خارجہ تعلقات کی کونسل کے سابق صدر رچرڈ ہاس نے ایک بے تکلف انٹرویو میں خطے میں امریکی بحری جہازوں کی موجودگی اور ایران کے خلاف واشنگٹن کی فوجی جارحیت کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ایران پر محدود بمباری سے ڈونلڈ ٹرمپ کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے اور ایران پر وسیع پیمانے پر بمباری طویل المدتی جنگ میں بدل جائے گی۔ ایک ایسی جنگ جس کے نتائج نہ صرف امریکہ بلکہ خود ٹرمپ کے لیے بھی نقصان دہ ہوں گے۔"
وائٹ ہاوس تذبذب کا شکار
وال سٹریٹ جرنل واضح طور پر لکھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری کے وسط میں طے شدہ فوجی حملے کو آخری لمحات میں ترک کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب انہیں یقین ہو گیا کہ امریکہ کے پاس ایران کے ممکنہ ردعمل کا مقابلہ کرنے اور علاقائی بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی حد تک طاقت موجود نہیں ہیں۔ یہ بیان بذات خود ایک اہم اعتراف ہے: واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایران سے جنگ ایسی جنگ نہیں جس پر قابو پایا جا سکے۔ خطے میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کو بھی حملے کے لیے تیاری کی علامت کے بجائے ڈیٹرنس کی ناکامی کی صورت میں ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ایسا دفاعی اقدام جو ایرانی ردعمل کے بارے میں پینٹاگون کی گہری تشویش کی نشاندہی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ کے ایران کے کہ ایران ایران پر طاقت کے ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔