ہانیہ عامر کا عاصم اظہر پر شرارتی تبصرہ سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستانی شوبز کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر اور گلوکار عاصم اظہر ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ دونوں کے تعلقات ماضی میں کئی نشیب و فراز سے گزر چکے ہیں، کچھ عرصہ ساتھ رہنے کے بعد علیحدگی ہوئی۔
ہانیہ سے بریک اپ کے بعد عاصم اظہر کی میرب علی سے منگنی ہوئی جبکہ ہانیہ عامر نے خود کو خبروں سے دور رکھا۔ تین برس بعد عاصم کی منگنی ختم ہوئی اور اب دونوں کے دوبارہ قریب ہونے کی افواہیں گردش کررہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں دونوں فنکاروں کے مبینہ تعلق اور شادی کی منصوبہ بندی سے متعلق خبریں سامنے آرہی ہیں۔ تاہم ہانیہ عامر ان قیاس آرائیوں کو ہلکے پھلکے انداز میں لیتی دکھائی دیتی ہیں اور انسٹاگرام پر بھی مداحوں کے سوالات پر دلچسپ اور شرارتی جوابات دے کر توجہ حاصل کرلیتی ہیں۔
حال ہی میں ایک تقریب کے دوران جب ہانیہ عامر سے پوچھا گیا کہ ان کا پسندیدہ گلوکار کون ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے مزاحیہ تاثر دیا اور کہا ’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں عاصم اظہر کا نام لوں؟‘‘ ان کا یہ جملہ سنتے ہی محفل میں قہقہے گونج اٹھے جبکہ یہ مختصر سا تبصرہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے اور صارفین اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
ہانیہ عامر کا یہ انداز ایک بار پھر مداحوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن گیا ہے، جس کے بعد دونوں ستاروں کے تعلق سے متعلق چہ مگوئیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ہانیہ عامر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔