کرن جوہر اور یوٹیوبر کیری میناٹی میں قانونی تنازع، نازیبا جملوں پر مبنی ویڈیو ڈیلیٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
نامور بھارتی فلم ساز کرن جوہر اور مقبول یوٹیوبر اجے نگر المعروف کیری میناٹی کے درمیان قانونی محاذ آرائی نے سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کرلی ہے۔
اس تنازع کی بنیاد ایک پیروڈی ویڈیو بنی جو کیری میناٹی نے اپنے یوٹیوب چینل پر ’’کافی ود جلن‘‘ کے عنوان سے اپ لوڈ کی تھی۔ یہ ویڈیو کرن جوہر کے مشہور شو ’’کافی ود کرن‘‘ سے متاثر تھی اور اس میں بالی وڈ میں اقربا پروری جیسے موضوعات پر طنزیہ انداز اپنایا گیا تھا۔
کرن جوہر کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو محض مزاح تک محدود نہیں رہی بلکہ ذاتی نوعیت کے حملوں میں بدل گئی۔ عدالت میں دائر درخواست میں انہوں نے الزام لگایا کہ ویڈیو میں نازیبا زبان استعمال کی گئی اور ان کے نام کو براہِ راست ہدف بنایا گیا، جو ان کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے۔
9 فروری کو ممبئی کی ایک عدالت نے اس معاملے پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے فوری احکامات جاری کیے۔ جج بھوسلے نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اجے نگر اور کیری میناٹی کے چینل کے منیجر دیپک چار نے مدعی کے خلاف توہین آمیز بیانات دیے اور نامناسب زبان استعمال کی۔
عدالت نے حکم دیا کہ مذکورہ ویڈیو کو فوراً ہٹایا جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کے مواد کی اشاعت سے گریز کیا جائے۔
View this post on Instagramعدالتی حکم کے تحت میٹا سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ متعلقہ لنکس حذف کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ویڈیو کسی صورت دوبارہ اپ لوڈ نہ ہو سکے۔
دوسری جانب کیری میناٹی کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو پہلے ہی ہٹا دی گئی تھی، اس لیے مقدمہ دائر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرن جوہر نے یوٹیوبر کو وضاحت کا موقع دیے بغیر عجلت میں قانونی کارروائی شروع کی۔
تاہم دلائل سننے کے باوجود عدالت نے عبوری حکمِ امتناع جاری کر دیا، جس کے مطابق اگلی سماعت تک کیری میناٹی، ان کی ٹیم یا چینل سے وابستہ کوئی بھی فرد کرن جوہر کے بارے میں مزید کوئی توہین آمیز مواد پوسٹ یا شیئر نہیں کر سکے گا۔ یہ معاملہ اب آئندہ سماعت تک عدالتی نگرانی میں رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیری میناٹی کرن جوہر
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :