بنگلا دیش میں کل عام انتخابات: 299 نشستوں کے لیے 2,028 امیدواروں میں ٹاکرا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا(نمائندہ جسارت): بنگلا دیش کے عام انتخابات میں 299 نشستوں کے لیے کل 2,028 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں 50 سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار شامل ہیں۔
الیکشن کمشنر بریگیڈیر جنرل (ریٹائرڈ) ابوالفضل محمد ثنااللہ کے مطابق عام انتخابات میں 83 خواتین بھی امیدوار ہیں۔خواتین امیدواروں میں سے 63 جماعتی اور 20 آزاد ہیں جبکہ مرد امیدواروں میں سے 1,692 جماعتی اور 253 آزاد امیدوار ہیں۔
ثنااللہ نے بتایا کہ پولنگ کل 12 فروری کو 300 میں سے 299 پارلیمانی نشستوں کے لیے ہوگی پولینگ صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک جار ی رہے گی۔ جبکہ اگر ووٹر پولنگ سینٹرز کے اندر 4:30 کے بعد انتظار کر رہے ہوں تو ان کے ووٹ قانون کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔
بنگلادیش کے الیکشن کمشنر بریگیڈئیر (ر) ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے کہا ہےکہ ملک میں 10 نئی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں اور 45 لاکھ نئے ووٹرز ہیں۔ 60 رجسٹرڈ جماعتوں میں سے 50 الیکشن میں شریک ہیں۔
بنگلادیش کے الیکشن کمشنر بریگیڈئیر (ر) ابوالفضل محمد ثنا اللہ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے سکیورٹی انتظامات کیے ہیں، ملک بھر میں انتخابات میں 50 سیاسی جماعتیں شرکت کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں اور انتخابات کے ساتھ ساتھ آئینی و قانونی اصلاحات کا ریفرنڈم بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔