بھارت کیخلاف میچ سے قبل نمیبیا کے کپتان کی کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
نمیبیا کے کپتان نے بھارت کے خلاف میچ سے قبل ورلڈ کپ انتظامیہ پر ناقص انتظام وجہ سے کڑی تنقید کی ہے۔
بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے نمیبیا کے کپتان جرہارڈ اریسمس کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے بھارت کے خلاف شیڈول نائٹ میچ سے قبل ان کے لیے فلڈ لائٹس میں کوئی ٹریننگ سیشن نہیں رکھا۔
نمیبیا نے اپنا پہلا میچ نیدرلینڈز کے خلاف پیر کو دن کے وقت میں کھیلا تھا اور آئندہ دو دنوں میں ان کے دونوں ٹریننگ سیشنز دن کی روشنی میں ہوئے تھے۔ دوسری جانب بھارت کی ٹیم میچ سے قبل رات میں دو بار ٹریننگ کر چکی ہے۔
کپتان جیرہارڈ اریسمس کا کہنا تھا کہ ٹیم کو اس میچ سے قبل رات کے ٹریننگ سیشنز نہیں دیے گئے اور ان کو نہیں معلوم ایسا کیوں کیا گیا۔ بھارت کو دو نائٹ ٹریننگ سیشنز دیے گئے اور انہوں نے باہر دیکھا کہ کینیڈا بھی نائٹ ٹریننگ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ نمیبیا میں ان کے میدانوں میں فلڈ لائٹس نہیں ہیں۔ انفرا اسٹرکچر کے اعتبار سے یہ ان کے لیے مشکل ہوگا، جن کو تجربہ نہیں ان کے لیے یہ عام بات نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میچ سے قبل
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔