چین اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا نیا دور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
چین اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا نیا دور WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
نئی دہلی :چین کے نائب وزیر خارجہ ما چھاؤ شو نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کے ساتھ چین۔بھارت اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ایک نئے دور کا انعقاد کیا۔ مذاکرات کے دوران فریقین نے بین الاقوامی صورتِ حال، اپنی اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں، باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی و علاقائی امور اور چین۔بھارت دوطرفہ تعلقات پر دوستانہ، واضح اور تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں گہری اور پیچیدہ تبدیلیوں کے تناظر میں چین اور بھارت کو چاہیے کہ وہ چین کے صدر شی جن پھنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ چین۔بھارت تعلقات کو اسٹریٹجک بلندی اور طویل المدتی نقطۂ نظر سے دیکھا اور سنبھالا جائے،
اس اسٹریٹجک ادراک پر قائم رہا جائے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں نہ کہ حریف، اور ایک دوسرے کے لیے ترقی کے مواقع ہیں نہ کہ خطرہ۔ مذاکرات میں باہمی اعتماد میں اضافے، تعاون کے دائرۂ کار کو وسعت دینے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ چین۔بھارت تعلقات کو صحت مند اور مستحکم راستے پر آگے بڑھایا جا سکے۔
فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ آئندہ دو برسوں میں باری باری برکس ممالک کی صدارت کے دوران ایک دوسرے کی حمایت کریں گے، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی تائید کریں گے، گلوبل ساؤتھ کے درمیان اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنائیں گے، بین الاقوامی عدل و انصاف کا دفاع کریں گے اور کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل کو فروغ دیں گے، تاکہ ایشیا سمیت پوری دنیا میں امن اور ترقی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ایس ایل میں نئی تاریخ رقم، پہلی مرتبہ پلیئرز آکشن کا آغاز میری رائے میں پاکستان اور بھارت واقعی شدید لڑائی لڑ رہے تھے: ٹرمپ غزہ، امریکی تھرموبیرک بموں کے استعمال کا انکشاف، 3 ہزار فلسطینیوں کا وجود ہی ختم، قطری میڈیا کینیڈا، برٹش کولمبیا کے ایک اسکول اور گھر پر فائرنگ، 10 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی ٹرمپ سے ایفائے عہد؛ انڈونیشیا کی 8 ہزار فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے کی تیاری امریکی صدر ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کردی شیخ حسینہ کے بعد بنگلادیشی نوجوانوں میں بھارت کا اثر ختم ہونے لگا، بی بی سی کا بڑا انکشافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور بھارت کے درمیان
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔