کراچی:

جیکسن کے علاقے شیریں جناح کالونی میں فائرنگ سے دو نوجوان جاں بحق ہوگئے۔

ایس ایچ او تھانہ جیکسن مٹھل شر کے مطابق جیکسن کے علاقے میں فائرنگ کا واقعہ آمنہ مسجد سکندر آباد کے قریب پیش آیا جہاں جرگے کے دوران تلخ کلامی شدت اختیار کرگئی۔

پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان اور مقتولین کے درمیان لین دین کا تنازع چل رہا تھا اور جرگے کے دوران جھگڑا بڑھنے پر ملزمان نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو سگے بھائی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 20 سالہ کامران ممتاز خان اور 24 سالہ سرتاج ممتاز خان کے نام سے ہوئی ہے اور دونوں کی لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ایس ایچ او جیکسن نے بتایا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان اور مقتولین آپس میں رشتہ دار ہیں اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

جاں بحق دونوں سگے بھائیوں کے والد نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میری سگی بہن کے بیٹے جعفر کا میرے بیٹوں سے 5 ہزار روپے کے لین دین پر جھگڑا ہوا تھا لیکن ہماری صلح ہوگئی تھی مگر اس کے باوجود بھانجوں نے غصہ برقرار رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا 5 ہزار روپے میں ادا کروں گا مگر ہم سے قطع تعلق کیا گیا۔

مقتولین کے والد نے مزید بتایا کہ جعفر نے فائرنگ کی جو میرا بھانجا ہونے کے ساتھ میرا داماد بھی ہے، آج میرے بیٹے گھر کے باہر بیٹھے تھے کہ جعفر نے ساتھیوں کے ہمراہ آکر فائرنگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ ظالموں نے میری کمر توڑ دی ہے، مجھے انصاف چاہیے، امید ہے قاتل اور ساتھی جلد گرفتار ہوں گے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بتایا کہ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے