وحدت ایمپلائیز ونگ پاکستان کی مرکزی کونسل کا آن لائن اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا کہ واپڈا سمیت تمام منافع بخش اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ 1993 سے فرید شدہ ہاؤس رینٹ بحال کر کے موجودہ مہنگائی کے ریٹ کے مطابق ہاؤس رینٹ مقرر کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ وحدت ایمپلائیز ونگ پاکستان کی مرکزی کونسل کا اجلاس زیر صدارت صدارت مرکزی صدر سلیم عباس صدیقی آن لائن منعقد ہوا، جس میں مرکزی کونسل کے اراکین عبداللہ بلوچ، طاہر حسین نیر، آغا حسن، راجہ علمدار حسین شریک ہوئے اور صوبائی صدر سندھ کاشف نقوی، صوبائی صدر شمالی پنجاب آصف ریاض، صوبائی صدر جنوبی پنجاب سید رضوان کاظمی، صوبائی صدر کے پی کے جنوبی سید نثار کاظمی، جنرل سیکرٹری بلتستان ریجن الطاف حسین، صدر گلکت ریجن یاور علی، صوبائی نائب صدر سندھ اشفاق حسین شریک ہوئے۔ اجلاس میں سانحہ ترنائی اسلام اباد کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فی الفور شہداء کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا کہ واپڈا سمیت تمام منافع بخش اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ 1993 سے فرید شدہ ہاؤس رینٹ بحال کر کے موجودہ مہنگائی کے ریٹ کے مطابق ہاؤس رینٹ مقرر کیا جائے۔
شرکائے اجلاس نے کہا کہ گروپ لائف انشورنس جو کہ مزدور کی اپنی رقم ہے جو پاکستان کے مختلف بینکوں میں پڑی ہوئی ہے اور عدالت عالیہ نے جو گروپ لائف انشورنس کے حوالے سے بہترین فیصلہ کیا ہے اس کی توثیق کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ گروپ لائف انشورنس کی رقم ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر واپس کی جائے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پچھلے تین سال کے ایڈہاک الاؤنس فی الفور بیسک پے میں ضم کیا جائے اور نئے پے سکیل مرتب کیے جائیں۔ اجلاس میں موجودہ میڈیکل الاؤنس کی کم رقم پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اس مہنگائی کے دور میں جب ادویات کی قیمتیں آسمانوں پر ہیں ہسپتالوں میں مہنگائی زوروں پر ہے تو دیگر مالیاتی اداروں کی طرح اور پرائیویٹ کمپنیوں کی طرح تمام سرکاری ملازمین کو بھی پرائیویٹ ہاسپٹل کی سہولت دی جائے۔ آخر میں اگیگا کی طرف سے دیئے گئے تمام مطالبات کی بھرپور حمایت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور مطالبہ مطالبہ کیا اجلاس میں ہاؤس رینٹ کیا گیا
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔