ملاکنڈ، عسکری ذمہ داریاں صوبائی اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پشاور(نیوزڈیسک)عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا ہے۔خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال سے متعلق کور ہیڈکوارٹر میں اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ،قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام شریک ہوئے۔عالمی منظرنامے پر پاکستان کی سفارتی واپسی میں عسکری قیادت کا کلیدی کردار، عالمی جریدے کی رپورٹ
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق ملا کنڈ ڈویژن میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماڈل کو خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی اور عسکری کارروائیوں کا جائزہ لینے کےلیے ذیلی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔فیلڈ مارشل سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات،عسکری تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکا خیزمواد، اور بھتہ خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر توجہ بھی دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔