پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی بلکہ تہذیبی شراکت دار ہیں: صدرِ مملکت
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سٹی 42 : صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی بلکہ تہذیبی شراکت دار ہیں، دونوں ممالک ہمسایے کی حیثیت سے سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور اپنی مشترکہ سرحد کو تعاون، قانونی تجارت اور ترقی کے زون میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان عالمی سطح پر متوازن تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تحمل، گفت و شنید اور علاقائی امن کے فروغ کےلئے تعمیری کردار ادا کرنے کےلیے تیار ہے۔
ایرانی سفارت خانے کے زیر اہتمام اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ پرشاندار عشائیہ
صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار ایران کے قومی دن کے موقع پر ایرانی سفارتخانہ کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب میں وفاقی وزرا، گورنر خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان میں متعین غیر ملکی سفیروں، پارلیمنٹرینز، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور صحافیوں نے شرکت کی۔
صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی عوام کے ساتھ ان کے قومی دن کی تقریب میں شامل ہونا میرے لئے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی بلکہ تہذیبی شراکت دار ہیں، ہماری مشترکہ سرحد صدیوں پر محیط تعلقات، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی عکاسی کرتی ہے، ہمارے تعلقات کی جڑیں عقیدے، تاریخ اور پائیدار ثقافتی بندھنوں سے جڑی ہوئی ہیں جو آج بھی ہمارے خطے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر عام انتخابات: ن لیگ نے ٹکٹ کیلئے امیدواروں کا انٹرویو شیڈول جاری کردیا
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ فارسی زبان اور اس کی عظیم ادبی روایت نے پاکستان کی فکری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں، فارسی صدیوں تک ان وسیع علاقوں کی سرکاری زبان رہی جو آج پاکستان کا حصہ ہیں، اس کا اثر ہمارے قومی شعور میں بہت گہرا ہے، پاکستان کا قومی ترانہ خود ہماری اجتماعی شناخت پر فارسی زبان کے گہرے نقوش کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کے زمانے سے بہت پہلے ہمارے عظیم ہفت زبان شاعر سندھ کے 18ویں صدی کے معروف شاعر سچل سرمست فارسی میں گہری شاعری تخلیق کررہے تھے۔
حکومتی وعدے اور فنڈز کی تقسیم میں دیر
انہوں نے مزید کہا کہ رومی، حافظ، سعدی اور فردوسی جیسے شاعروں اور مفکرین کا پاکستان میں بڑے پیمانے پر احترام کیا جاتا ہے جبکہ علامہ اقبال جنہوں نے اپنا زیادہ تر کام فارسی میں لکھا ہمارے دونوں معاشروں کےلئے وقار اور تجدید کی مشترکہ علامت بنے ہوئے ہیں۔ صدر مملکت نے کہاکہ آج ہمارا خطہ ایک حساس دوراہے پر کھڑا ہے۔ جاری تنازعات، دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور حل نہ ہونے والے علاقائی فلیش پوائنٹس استحکام کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس طرح کے چیلنجز کا مقابلہ طاقت یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں کیا جاسکتا، تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ صرف بداعتمادی کو گہرا کرتا ہے اور انسانی و معاشی نقصانات میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
موجودہ سولر صارفین سے نیٹ بلنگ وصولی نہیں ہوگی: اویس لغاری
صدر مملکت نے کہاکہ ایران سے متعلق کسی بھی قسم کا عدم استحکام، یا مسائل کو فوجی ذرائع سے حل کرنے کی کوئی بھی کوشش سنگین خطرات کی حامل ہے، ایسے اقدامات خلیج کے خطے، جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں، عالمی امن کو نقصان اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تصادم کے نتائج بہت سنگین ہوں گے، اس لئے پاکستان بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سختی سے پابندی کی حمایت کرتا ہے، ہم یکطرفہ پابندیوں اور ایران کے خلاف زبردستی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ پرامن مشغولیت علاقائی اور عالمی سلامتی کےلئے بہترین راستہ ہیں۔
صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم اور متعلقہ فریقین کے درمیان تعمیری گفتگو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی بانٹتے ہیں، ہم سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور اپنی مشترکہ سرحد کو تعاون، قانونی تجارت اور ترقی کے زون میں تبدیل کرنے کےلئے پرعزم ہیں، پاکستان عالمی سطح پر متوازن تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تحمل، گفت و شنید اور علاقائی امن کے فروغ کےلئے تعمیری کردار ادا کرنے کےلئے تیار ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر ایران کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری شراکت داری مزید فروغ پائے اور ہمارا خطہ سلامتی، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی طرف گامزن رہے۔ اس سے قبل تقریب کا آغاز پاکستان اور ایران کے قومی ترانوں کی دھنوں سے ہوا۔
قبل ازیں تقریب میں اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے دیگر مہمانوں کے ہمراہ ایران کے قومی دن کی مناسبت سے کیک کاٹا۔
ایران کے قومی دن کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان اور ایران آصف علی زرداری نے ایران کے قومی کہ پاکستان کے قومی دن انہوں نے کرنے کے کرتا ہے کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :