بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف کو کھری کھری سنا دیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف کو کھری کھری سنا دیں، کہا کہ غیر ملکی نشریاتی ادارے کو فوج کے خلاف پہلا انٹرویو آپ نے دیا۔
عدلیہ پر حملہ کرنے والے آپ ہیں ، افواج کے کندھے پر بیٹھ کر سیاست نہ کریں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے پی ٹی آئی ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ دہشت گرد جہاں بھی ہیں ہمارے دشمن ہیں، ہمارے گھروں پر قبضہ ہوا اور ہم غدار ہیں؟
انہوں نے کہا کہ فوج کے خلاف بات کرنے والے آپ ہیں اور غیر ملکی نشریاتی ادارے کو فوج کے خلاف پہلا انٹرویو آپ نے دیا، عدلیہ پر حملہ کرنے والے آپ ہیں اور کلبھوشن کے خلاف آج تک کوئی بیان نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس میں بھارت نے آپ کے موقف کو اپنایا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ افواج کے کندھے پر بیٹھ کر کوئی سیاست نہ کریں، خواجہ آصف نے آج تقسیم پیدا کی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمیں چاہیے تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک پیغام دیتے، آج خواجہ آصف نے برادران یوسف کا کردار ادا کیا اور سوال اٹھایا کہ آپ فوج کو سیاست میں کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے خواجہ آصف نے کہا کہ کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔