جی ڈی پی کی خوشخبری لیکن غریب کی افطاری مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب دنیا کی معیشت ایک ایسے میدان میں کھڑی ہے جہاں سے ساحل کی طرف سمندر پر نظر دوڑائیں تو جہاز کم اور خدشات زیادہ تیر رہے ہیں۔ تجارتی جہاز سہمے سہمے گزر رہے ہیں، بازاروں میں بے یقینی کا یہ عالم ہے کہ ہر ملک اپنی صنعتوں کے لیے پہلے تحفظ تلاش کر رہا ہے، پھر سودے کر رہا ہے۔
ایک طرف یورپ اور امریکا جیسے امیر ترین ممالک اپنے لیے ’’ ٹیرف‘‘ کا نام لے کر تحفظ کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف چین اپنی پیداوار کے سیلاب کے ساتھ دنیا کے بازاروں پر دستک دے رہا ہے اور تیسری طرف ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ایک ایسے مسافر کی طرح نظر آ رہا ہے جس کے پاس کمزور کشتی ہے اور چپو بھی کمزور ہے، لیکن بے رحم موجیں بہت زیادہ بپھری ہوئی ہیں، امریکا یورپ سے ٹیرف رعایت کا سہارا ملا تھا، لیکن اب بہت کچھ داؤ پر لگنے جا رہا ہے،کیونکہ عالمی تجارت میں ایک لفظ ’’ٹیرف‘‘ یعنی کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ تجارتی پابندیاں، حفاظتی محصولات اور وہ ساری سیاسی چالیں جن کے ذریعے امیر ممالک اپنی صنعتوں کو بچانے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں کیونکہ جب ٹیرف بڑھتا ہے یا کسی اور ملک کا ٹیرف زیرو ہوتا ہے تو پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور عالمی منڈی ہمارے لیے سکڑتی ہے اور برآمدات کمزور ہوتی ہیں تو پاکستانی معیشت کی سانسیں پھول جاتی ہیں۔
انھی پھولتی سانسوں کے ساتھ پاکستان کے معاشی ایوانوں میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ جی ڈی پی کی حقیقت نمو سال 2026 کے لیے اب 3.
اس میں صنعت، زراعت، خدمات، تجارت سب شامل ہوتا ہے جس میں غریب کا چہرہ بے روزگار کا چہرہ یا ان کی نمایندگی شامل نظر نہیں آ رہی۔ جی ڈی پی ایک مجموعی تصویر ہوتی ہے لیکن اس تصویر میں میرے ملک کا دیہاڑی دار مزدور اور وہ کسان نظر نہیں آرہا جنھوں نے وافر مقدار میں آلو پیدا کر دیے صرف پنجاب میں ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن آلو کی پیداوار جوکہ سال گزشتہ کے مقابلے میں 25 فی صد زیادہ ہے۔ آلو کی قیمت اتنی گر گئی کہ شاید کسان اگلے کئی برسوں تک آلو کی کاشت کو کم سے کم کر دے گا۔ میں نے ریڑھی والے سے پوچھا ’’ آلو کیا بھاؤ دے رہے ہو؟‘‘ تو اس نے بتایا کہ ’’100 روپے کے 4 کلو۔‘‘ اس کا مطلب یہ خبر بھی صحیح ہے کہ کسان پریشان ہے۔ اسے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان خبروں میں بھی صداقت ہے کہ کسان مزید نقصان سے بچنے کے لیے آلو کی فصل کو اپنے کھیتوں میں ہی دبا رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ معمول کی بات ہے یہاں کبھی پیاز کبھی ٹماٹر زائد پیداوار کی بنا پر اسی کھیت کا کھاد بنا دیا جاتا ہے۔ دیار غیر میں کسان جیسے ہی ان مراحل میں داخل ہوتا ہے، حکومت انھیں گرنے نہیں دیتی، ان کا ہاتھ تھام لیا جاتا ہے۔ حکومت پنجاب کو آلو کی برآمد کے سلسلے میں فوری ایکشن پلان ترتیب دینا چاہیے۔
جب حکومت یہ کہتی ہے کہ جی ڈی پی میں اضافہ ہو رہا ہے تو عام آدمی کا سوال بڑا سیدھا سا ہوتا ہے، اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو میری جیب کیوں سکڑ رہی ہے؟ میری روٹی کیوں کم ہو رہی ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں گزشتہ دنوں جیسے ہی آٹے کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا، کئی شہروں خصوصاً کراچی میں روٹی کی قیمت میں 25 فی صد اضافہ ہو گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں عام آدمی کا یہ سوال کسی فلسفے کا نہیں، روٹی کا سوال ہے۔ یہ سوال اس غریب دکاندار کے ترازو سے بھی نکلتا ہے جس نے شام کو روٹی خرید کر گھر جانا ہے۔
اس مزدور کی جیب سے نکلتا ہے جس کی روٹی پوری نہیں پڑ رہی ہے وہ تو سوچے گا کہ جی ڈی پی بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے۔ کیونکہ اس کی تنخواہ کے نوٹ اب کمزور ثابت ہو رہے ہیں۔ جب اسٹیٹ بینک یہ بھی امید دلاتا ہے کہ نمو 4.75 فی صد تک بھی جا سکتی ہے یہ ایک اچھی امید ہے لیکن اس کے ساتھ شرائط بھی ہیں۔ جب سرمایہ کاری بڑھے، صنعت کو سستی توانائی ملے، درآمدات کا دباؤ قابو میں رہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے رہیں اور عالمی معاشی حالات خراب نہ ہوں، جہاں تک سرمایہ کاری بڑھنے کا تعلق ہے تو نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں بم دھماکوں کا نہ رکنے والا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے جب کئی ملکوں نے بھی شہریوں کو پاکستان یاترا سے متعلق محتاط رہنے کی ہدایت کر دی تھی اور صنعت کو سستی توانائی ملے، پاکستان اپنی صنعتوں کو سستی سے سستی توانائی دینے کا خواہش مند ہے لیکن گزشتہ برس کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہ بن سکا اور کم قیمت کرنے کی راہ میں آئی ایم ایف کی شرائط آ جاتی ہیں رہی بات زرمبادلہ کی تو امید ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر نمایاں ہو کر رہیں گے۔ جہاں تک بات ہے کہ عالمی حالات خراب نہ ہوں جب تک اسرائیلی دہشت گردی غزہ کے مظلوم عوام پر سے ختم نہیں ہوتی اور اسرائیل معاہدے کے باوجود اب تک باز نہ آیا تو ایسی صورت میں عالمی حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟ البتہ پاکستان کو اپنے غریبوں کے معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے مہنگائی کو کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ رمضان المبارک کی آمد ہے اور ابھی سے تقریباً بہت سی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے لیے مہنگائی صرف ریٹ نہیں، ایک مستقل اذیت ہے۔ نئی صدی کے آغاز سے ہی خاص طور پر دوسری دہائی کے ختم ہوتے ہی عوام نے مہنگائی کی وہ وہ شکلیں دیکھی ہیں کہ الامان الحفیظ۔ چینی، گھی، آٹا، بجلی، گیس یہ سب چیزیں نہیں رہیں بلکہ غریب عوام کے لیے امتحان بن گئی ہیں اور اب رمضان المبارک کا پورا مہینہ پکوڑے، سموسے، مٹھائیاں، پھل ان سب کی قیمتیں آسمان پر پہنچی ہوئی ہوں گی اور حکومت اور غریب عوام دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے ہوں گے اور اس رمضان المبارک میں غریب کے لیے افطاری پھر مہنگی ہوکر رہ جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی ڈی پی کی قیمت رہے ہیں کے ساتھ ہوتا ہے رہی ہے رہا ہے کے لیے ہے اور آلو کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.