Express News:
2026-07-24@02:08:22 GMT

جی ڈی پی کی خوشخبری لیکن غریب کی افطاری مہنگی

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب دنیا کی معیشت ایک ایسے میدان میں کھڑی ہے جہاں سے ساحل کی طرف سمندر پر نظر دوڑائیں تو جہاز کم اور خدشات زیادہ تیر رہے ہیں۔ تجارتی جہاز سہمے سہمے گزر رہے ہیں، بازاروں میں بے یقینی کا یہ عالم ہے کہ ہر ملک اپنی صنعتوں کے لیے پہلے تحفظ تلاش کر رہا ہے، پھر سودے کر رہا ہے۔

ایک طرف یورپ اور امریکا جیسے امیر ترین ممالک اپنے لیے ’’ ٹیرف‘‘ کا نام لے کر تحفظ کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف چین اپنی پیداوار کے سیلاب کے ساتھ دنیا کے بازاروں پر دستک دے رہا ہے اور تیسری طرف ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ایک ایسے مسافر کی طرح نظر آ رہا ہے جس کے پاس کمزور کشتی ہے اور چپو بھی کمزور ہے، لیکن بے رحم موجیں بہت زیادہ بپھری ہوئی ہیں، امریکا یورپ سے ٹیرف رعایت کا سہارا ملا تھا، لیکن اب بہت کچھ داؤ پر لگنے جا رہا ہے،کیونکہ عالمی تجارت میں ایک لفظ ’’ٹیرف‘‘ یعنی کسٹم ڈیوٹی کے ساتھ تجارتی پابندیاں، حفاظتی محصولات اور وہ ساری سیاسی چالیں جن کے ذریعے امیر ممالک اپنی صنعتوں کو بچانے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں کیونکہ جب ٹیرف بڑھتا ہے یا کسی اور ملک کا ٹیرف زیرو ہوتا ہے تو پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور عالمی منڈی ہمارے لیے سکڑتی ہے اور برآمدات کمزور ہوتی ہیں تو پاکستانی معیشت کی سانسیں پھول جاتی ہیں۔

انھی پھولتی سانسوں کے ساتھ پاکستان کے معاشی ایوانوں میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کی یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ جی ڈی پی کی حقیقت نمو سال 2026 کے لیے اب 3.

75 سے 4.75 فی صد رہنے کی توقع ہے۔ جب کہ مالی سال 27 میں نمو مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ جی ڈی پی کی نمو کا بڑھنا ایک اچھا اشارہ ہے، مگر جی ڈی پی وہ آئینہ ہے جس میں پورا ملک دکھائی دیتا ہے۔

اس میں صنعت، زراعت، خدمات، تجارت سب شامل ہوتا ہے جس میں غریب کا چہرہ بے روزگار کا چہرہ یا ان کی نمایندگی شامل نظر نہیں آ رہی۔ جی ڈی پی ایک مجموعی تصویر ہوتی ہے لیکن اس تصویر میں میرے ملک کا دیہاڑی دار مزدور اور وہ کسان نظر نہیں آرہا جنھوں نے وافر مقدار میں آلو پیدا کر دیے صرف پنجاب میں ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن آلو کی پیداوار جوکہ سال گزشتہ کے مقابلے میں 25 فی صد زیادہ ہے۔ آلو کی قیمت اتنی گر گئی کہ شاید کسان اگلے کئی برسوں تک آلو کی کاشت کو کم سے کم کر دے گا۔ میں نے ریڑھی والے سے پوچھا ’’ آلو کیا بھاؤ دے رہے ہو؟‘‘ تو اس نے بتایا کہ ’’100 روپے کے 4 کلو۔‘‘ اس کا مطلب یہ خبر بھی صحیح ہے کہ کسان پریشان ہے۔ اسے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان خبروں میں بھی صداقت ہے کہ کسان مزید نقصان سے بچنے کے لیے آلو کی فصل کو اپنے کھیتوں میں ہی دبا رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ معمول کی بات ہے یہاں کبھی پیاز کبھی ٹماٹر زائد پیداوار کی بنا پر اسی کھیت کا کھاد بنا دیا جاتا ہے۔ دیار غیر میں کسان جیسے ہی ان مراحل میں داخل ہوتا ہے، حکومت انھیں گرنے نہیں دیتی، ان کا ہاتھ تھام لیا جاتا ہے۔ حکومت پنجاب کو آلو کی برآمد کے سلسلے میں فوری ایکشن پلان ترتیب دینا چاہیے۔

جب حکومت یہ کہتی ہے کہ جی ڈی پی میں اضافہ ہو رہا ہے تو عام آدمی کا سوال بڑا سیدھا سا ہوتا ہے، اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو میری جیب کیوں سکڑ رہی ہے؟ میری روٹی کیوں کم ہو رہی ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں گزشتہ دنوں جیسے ہی آٹے کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا، کئی شہروں خصوصاً کراچی میں روٹی کی قیمت میں 25 فی صد اضافہ ہو گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں عام آدمی کا یہ سوال کسی فلسفے کا نہیں، روٹی کا سوال ہے۔ یہ سوال اس غریب دکاندار کے ترازو سے بھی نکلتا ہے جس نے شام کو روٹی خرید کر گھر جانا ہے۔

اس مزدور کی جیب سے نکلتا ہے جس کی روٹی پوری نہیں پڑ رہی ہے وہ تو سوچے گا کہ جی ڈی پی بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے۔ کیونکہ اس کی تنخواہ کے نوٹ اب کمزور ثابت ہو رہے ہیں۔ جب اسٹیٹ بینک یہ بھی امید دلاتا ہے کہ نمو 4.75 فی صد تک بھی جا سکتی ہے یہ ایک اچھی امید ہے لیکن اس کے ساتھ شرائط بھی ہیں۔ جب سرمایہ کاری بڑھے، صنعت کو سستی توانائی ملے، درآمدات کا دباؤ قابو میں رہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے رہیں اور عالمی معاشی حالات خراب نہ ہوں، جہاں تک سرمایہ کاری بڑھنے کا تعلق ہے تو نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں بم دھماکوں کا نہ رکنے والا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے جب کئی ملکوں نے بھی شہریوں کو پاکستان یاترا سے متعلق محتاط رہنے کی ہدایت کر دی تھی اور صنعت کو سستی توانائی ملے، پاکستان اپنی صنعتوں کو سستی سے سستی توانائی دینے کا خواہش مند ہے لیکن گزشتہ برس کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہ بن سکا اور کم قیمت کرنے کی راہ میں آئی ایم ایف کی شرائط آ جاتی ہیں رہی بات زرمبادلہ کی تو امید ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر نمایاں ہو کر رہیں گے۔ جہاں تک بات ہے کہ عالمی حالات خراب نہ ہوں جب تک اسرائیلی دہشت گردی غزہ کے مظلوم عوام پر سے ختم نہیں ہوتی اور اسرائیل معاہدے کے باوجود اب تک باز نہ آیا تو ایسی صورت میں عالمی حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟ البتہ پاکستان کو اپنے غریبوں کے معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے مہنگائی کو کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ رمضان المبارک کی آمد ہے اور ابھی سے تقریباً بہت سی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے لیے مہنگائی صرف ریٹ نہیں، ایک مستقل اذیت ہے۔ نئی صدی کے آغاز سے ہی خاص طور پر دوسری دہائی کے ختم ہوتے ہی عوام نے مہنگائی کی وہ وہ شکلیں دیکھی ہیں کہ الامان الحفیظ۔ چینی، گھی، آٹا، بجلی، گیس یہ سب چیزیں نہیں رہیں بلکہ غریب عوام کے لیے امتحان بن گئی ہیں اور اب رمضان المبارک کا پورا مہینہ پکوڑے، سموسے، مٹھائیاں، پھل ان سب کی قیمتیں آسمان پر پہنچی ہوئی ہوں گی اور حکومت اور غریب عوام دونوں ہی حیرت سے دیکھ رہے ہوں گے اور اس رمضان المبارک میں غریب کے لیے افطاری پھر مہنگی ہوکر رہ جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جی ڈی پی کی قیمت رہے ہیں کے ساتھ ہوتا ہے رہی ہے رہا ہے کے لیے ہے اور آلو کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف