ا فغانستان سے دہشتگردی نہیں رک رہی،پاکستان رمضان سے قبل کارروائی کرسکتا ہے،خواجہ آصف نے عندیہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے عندیہ دیا ہے کہ میرا خیال ہے پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔ایک انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔
جذباتی باتیں نہیں کیں، اپنے الفاظ پر قائم ہوں: محمود اچکزئی کا خواجہ آصف کو جواب
خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے، کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس آنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا آپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست بذات خود ثبوت ہے کہ انہوں نے لمبا سفر طے کیا ہے، میاں صاحب کا 99، 93 میں سیاست پر جو اعتماد سامنے آیا وہ سب نے دیکھا، ہم نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوںنے کہا کہ ملکی صورتحال میں فوج سویلین حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے تو میرا خیال ہے یہ حکومت کا حصہ ہے۔ دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، یہ واضح ہونا چاہیے سیاسی اور ملٹری اداروں کو شانہ بشانہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے، دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہے اور ہم نے مل کر اسے جیتنا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے نیپرا کے سولر ریگولیشنز کے اجرا کا نوٹس لے لیا
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے تمام صوبے ایک پیج پر آ رہے ہیں، کم از کم وفاق اور کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں اس کے علاوہ دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔