کراچی کا جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ بیرون ملک جانے والے مسافروں کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا۔ائیر پورٹ جانے والے راستوں پر جابجا رکاوٹوں اور بین الاقوامی ڈپارچر لاؤنج میں داخل ہونے والوں کی طویل قطار کی وجہ سے مسافروں کی پروازیں چھوٹ جانے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ اسٹار گیٹ اور جناح ٹرمینل پر پولیس چیک پوسٹ پر کم تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں کی وجہ سے چیکنگ کا عمل انہتائی سست ہے جس کے باعث شارع فیصل پر گاڑیوں کی طول قطار نظر آتی ہے، آگے چلیں تو جناح ٹرمینل کی پارکنگ اور لیول ٹو کے ریمپ پر بھی گاڑیوں کی طویل قطاریں ہوتیں ہیں اور یہا بھی وجہ چیک پوسٹس پر عملے کی کمی ہے۔ڈپارچر لاؤنج کے تنگ داخلی راستے اور عملے کی کمی اور سست روی کے باعث ڈپارچر لاؤنج میں داخل ہونے کامرحلہ بھی ایک گھنٹے سے کم کا نہیں ہوتا۔ڈپارچر لاؤنج میں سامان کی اسکیننگ، جسمانی تلاشی، کسٹمز اور اے این ایف کے سوالات سے گزر کر مسافر ائیرلائن کاونٹرتک پہنچتا ہے۔ائیرلائنز کے عملے کا کہنا ہے کہ ان طویل مرحلوں سے گزر کر مسافر تاخیر سے کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں اور انہیں بورڈنگ کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ ائیرپورٹ پر سب سے مشکل مرحلہ اب امیگریشن کا ہے، ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق امیگریشن کے صرف 9 کاؤنٹر کام کر رہے ہیں اور آدھے کاؤنٹرز بند پڑے ہیں جس کی وجہ ایف آئی اے امیگریشن میں عملے کی کمی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی ائیرپورٹ پر اس صورتحال کا خود بھی جائزہ لیا لیکن حالات نہیں بدلے۔ائیرلائن ذرائع کا بتانا ہے کہ گزشتہ دنوں صرف ایک شفٹ میں 22 مسافر تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے سفر نہیں کر سکے، پی اے اے ریکارڈ کے مطابق مسافروں کے تاخیر سے ائیرپورٹ پہنچنے اور امیگریشن کے عمل میں غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے بین الاقوامی پروازوں کی روانگی میں ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر معمول بن گئی ہے، اس بارے میں غیرملکی ائیرلائنز نے بھی ائیرپورٹ حکام سے شکایت کی ہے۔ایک اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کی مسافروں کو پانچ گھنٹے پہلے ائیرپورٹ بلایا جائے لیکن ائیرپورٹ کے سینیئر افسران کا کہنا ہے کہ اگر ائیرپورٹ اور جناح ٹرمینل کے لاؤنج میں داخلی راستوں پر موجود رکاوٹیں اور عملے کی کمی اسی طرح رہی تو مسافروں کو پانچ گھنٹے پہلے بلانے سے بھی صورتحال بہتر نہیں ہو سکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈپارچر لاؤنج عملے کی کمی لاؤنج میں کی وجہ سے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم