فیصلے بند کمروں کے بجائے پارلیمانی فورم پر ہونے چاہئیں،فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-6
چارسدہ (صباح نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قومی سطح پر پالیسی سازی کے لیے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی کمیٹی کو فعال کیا جائے اور فیصلے بند کمروں کے بجائے ایوان میں ہونے چاہئیں۔ چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آئی جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا، جبکہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے حوالے سے صوبائی حکومت بے اختیار ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے زور دیا کہ ملکی استحکام کے لیے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہے، پاکستان کو اپنی قومی سوچ کے مطابق آزادانہ فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ چند افراد کی جانب سے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنا ملکی مفاد میں نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔