ورلڈ ڈیفنس شو میں بھارت نے ’’شیش ناگ‘‘ کے نام سے ایرانی ڈرون کی نقل متعارف کرادی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-08-23
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعود ی عرب میں جاری ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں بھارت کی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی نیو اسپیس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجیز نے اپنی شیش ناگ سیریزکے خودکش ڈرونز متعارف کروادیے جن میں سے ایک ایرانی شاہد 136 ڈرون کی ہوبہو نقل ہے۔ان خود کش ڈرونز میں شیش ناگ 150 اور شیش ناگ 20 شامل ہیں، کم شیش ناگ 150 کو سب سے نمایاں طور پرپیش کیا گیا جو طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا خودکار طرز کا ڈرون ہے۔کمپنی کے مطابق یہ ڈرون کروز میزائل کے کم لاگت متبادل کے طور پر تیار کیا گیا ہے اور اس کی رینج ایک ہزار کلومیٹر سے زاید ہے جبکہ یہ 25 سے 40 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔شیش ناگ 150 جدید خودکار نظام اور سوارم رویے پر مبنی ہے جس کے تحت متعدد ڈرونز مل کر کارروائی کر سکتے ہیں۔اس میں ڈیلٹا وِنگ ڈیزائن استعمال کیا گیا ہے جو طویل پرواز (تقریباً 5 گھنٹے) اور رفتار کے لیے موزوں ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام اسرائیلی ہاروپ اور ایرانی شاہد136 جیسے ڈرونز کا متبادل بن سکتا ہے اور کمانڈ پوسٹس، فضائی دفاعی نظام جیسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اسی نمائش میں نیو اسپیس نے شیش ناگ 20 بھی متعارف کرایا ہے جو ایک چھوٹا، برقی توانائی سے چلنے والا اور کینسٹر سے لانچ ہونے والا ڈرون ہے۔ یہ نظام زمین پر موجود دستوں یا گاڑیوں سے فوری طور پر لانچ کیا جا سکتا ہے اور اسے ٹیکٹیکل سطح پر درست حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔شیش ناگ 20 کی نمایاں خصوصیات میں30 کلومیٹر تک آپریشنل رینج اور تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز شامل ہے۔ اس کا پروں کا پھیلاؤ 2 میٹر ہے اور اس کا زیادہ سے زیادہ وزن 20 کلوگرام بتایا گیا ہے۔ یہ ڈرون 5 کلوگرام تک کا وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جدید الیکٹرو آپٹیکل اور انفرا ریڈ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو نگرانی اور ہدف کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔کمپنی کے مطابق برقی توانائی کی بدولت یہ ڈرون 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے اور 6 ہزار میٹر تک کی بلندی پر آپریٹ کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا گیا ہے شیش ناگ سکتا ہے ہے اور
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔