data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعود ی عرب میں جاری ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں بھارت کی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی نیو اسپیس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجیز نے اپنی شیش ناگ سیریزکے خودکش ڈرونز متعارف کروادیے جن میں سے ایک ایرانی شاہد 136 ڈرون کی ہوبہو نقل ہے۔ان خود کش ڈرونز میں شیش ناگ 150 اور شیش ناگ 20 شامل ہیں، کم شیش ناگ 150 کو سب سے نمایاں طور پرپیش کیا گیا جو طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا خودکار طرز کا ڈرون ہے۔کمپنی کے مطابق یہ ڈرون کروز میزائل کے کم لاگت متبادل کے طور پر تیار کیا گیا ہے اور اس کی رینج ایک ہزار کلومیٹر سے زاید ہے جبکہ یہ 25 سے 40 کلوگرام تک کا پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔شیش ناگ 150 جدید خودکار نظام اور سوارم رویے پر مبنی ہے جس کے تحت متعدد ڈرونز مل کر کارروائی کر سکتے ہیں۔اس میں ڈیلٹا وِنگ ڈیزائن استعمال کیا گیا ہے جو طویل پرواز (تقریباً 5 گھنٹے) اور رفتار کے لیے موزوں ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام اسرائیلی ہاروپ اور ایرانی شاہد136 جیسے ڈرونز کا متبادل بن سکتا ہے اور کمانڈ پوسٹس، فضائی دفاعی نظام جیسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اسی نمائش میں نیو اسپیس نے شیش ناگ 20 بھی متعارف کرایا ہے جو ایک چھوٹا، برقی توانائی سے چلنے والا اور کینسٹر سے لانچ ہونے والا ڈرون ہے۔ یہ نظام زمین پر موجود دستوں یا گاڑیوں سے فوری طور پر لانچ کیا جا سکتا ہے اور اسے ٹیکٹیکل سطح پر درست حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔شیش ناگ 20 کی نمایاں خصوصیات میں30 کلومیٹر تک آپریشنل رینج اور تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز شامل ہے۔ اس کا پروں کا پھیلاؤ 2 میٹر ہے اور اس کا زیادہ سے زیادہ وزن 20 کلوگرام بتایا گیا ہے۔ یہ ڈرون 5 کلوگرام تک کا وار ہیڈ لے جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جدید الیکٹرو آپٹیکل اور انفرا ریڈ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو نگرانی اور ہدف کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔کمپنی کے مطابق برقی توانائی کی بدولت یہ ڈرون 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے اور 6 ہزار میٹر تک کی بلندی پر آپریٹ کیا جا سکتا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا گیا ہے شیش ناگ سکتا ہے ہے اور

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی