پہلی نظر خانہ کعبہ کے بجائے کلاک ٹاور پر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260212-03-8
علما کرام کی زبانی سنتا چلا آیا ہُوں کہ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا کی جاتی ہے وہ دعا لازمی قبول ہوتی ہے، یہاں تو معاملہ عجیب ہے کہ پہلی نظر کعبہ پر پڑنے کے بجائے کلاک ٹاور پر پڑتی ہے پھر دوسری نظر کعبہ پر پہنچتی ہے۔ ابتدائی دنوں میں کعبہ سطح زمین سے تقریباً ۵ میٹر بلند تھا جبکہ اِس کا مدخل بند ہونے اور کھولنے والے دروازے سے محروم تھا اور زمین کے برابر تھا۔ پھر تبع نامی یمنی بادشاہ نے وہاں لکڑی کا دروازہ لگوایا پھر قبیلہ قریش نے غالباً ۶۰۵ عیسوی میں اِس محترم گھر کی تعمیر ِ نوع کی تو اِس کی بلندی ۱۳ یا ۱۴ میٹر تک کردی گئی اور اِس کا دروازہ زمین سے تقریباً ۲ میٹر اُوپر کردیا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کو متعدّد بار تبدیلی کے مراحل سے کیوں گزارا جاتا رہا۔ اُس کو اصلی حالت میں ہی اگر رہنے دیا جاتا تو کیا حرج ہوتا۔ دوسری طرف صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کو جوڑنے والے راستے کے ساتھ بھی ایسا ہی عمل اختیار کیا گیا کہ اُس کی سنگلاخ سطح کو ہموار کردیا گیا اور پچھلے وقتوں کا ریتیلا اور پتھریلا راستہ اَب آرام دہ راستہ بن چکا ہے، پہلے وہ صحرائی راستہ بے آب وگیاہ ہونے کے علاوہ سائبان سے محروم اور کھلے آسمان کے تلے ہونے کے باعث تپا ہُوا تھا، اب وہاںجابجا نہ صرف ائرکنڈیشنڈ نصب ہیں بلکہ سعئی کرنے والوں کے پینے کے لیے ٹھنڈے اور شفّاف پانی بھی وہاں قدم قدم پر دستیاب ہے۔ سیدہ بی بی ہاجرہؑ پانی کے حصول کے لیے جس راستے پر دوڑ بھاگ کر رہی تھیں وہ راستے نہ صرف یہ کہ ہموار نہیں تھے بلکہ سنگلاخ اور پَیروں کے لیے تکلیف دہ بھی تھے۔ اگر وہ راستے آج بھی اپنی اُسی اصلی حالت میں رہتے یعنی اُس کی سطح پر ماضی کی طرح روڑے اور پتھّر پڑے رہتے تو حج اور عمرہ کرنے کے لیے جانے والے بتلاتے کہ اُنہوں نے جن راستوں پر چل کر سعئی کی تھی وہ راستے کتنے تکلیف دہ تھے۔
بڑی صاف بات ہے کہ انسان ہی انسان کو سہولت فراہم کرنے کی تدبیر اور سبیل ڈھونڈتے ہیں۔ سعئی کرنے کا وہ راستہ سنگلاخ چٹانوں کے بجائے ہموار کردیا گیا ہے تو یہ کوئی گناہ کا کام نہیں کیا گیا ہے۔ اِسی طرح غارِثور اور غارِ حرا کی زیارت کرنے والوں کی سہولت کے لیے وہاں برقی سیڑھیاں نصب کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اب آئیے عمارتوں کی شان وشوکت کو نمایاں کرنے کی توجیہ اور تصریح کی طرف نظر ڈالتے ہیں۔ دُبئی میں حالیہ تعمیرکیا ہُوا ’بُرج خلیفہ، ۸۳۰ میٹر بلند ہے جو ۱۰۰ کلومیٹر دُور سے دکھائی دیتا ہے۔ اُس کے گردو پیش کو بلندو بالا عمارتوں کے حصار میں نہیں رکھا گیا ہے۔ فرانس کے شہر، پیرس میں قائم ’ا یفل ٹاور‘ کی بلندی ۳۲۴ میٹر کے لگ بھگ ہے جو کہیں پر ۳۵ کلومیٹر اور کہیں پر ۵۰ کلومیٹر دُور سے نظر آتا ہے۔ اِس یادگار کو بھی اُونچی دیواروں نے نہیں چھپا رکھا ہے۔ بھارت میں شاہجہاں کا تاج محل ۷۳ میٹر بلند ہے، یہ کہیں پر ۱۰ کلومیٹر اور کہیں پر ۲۰ کلومیٹر دُور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اِسے بھی بلندترین ہوٹلوں اور عمارتوں نے اپنے حصار میں نہیں لے رکھا ہے۔ امریکا کا مجسّمۂ آزادی ۹۳ میٹر اُونچا ہے اور ۳۰ تا ۱۰ کلومیٹر دُور سے نظر آجاتا ہے۔ کینیڈا میں قائم سی این ٹاور ۵۰ کلومیٹر دُور سے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ ٹوکیو ٹاور کو ۴۰ کلومیٹر دُور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ قطب مینار ۱۰ کلومیٹر دُور رہنے والے لوگ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اِسی طرح مینارِ پاکستان کو بھی ۱۰ کلومیٹر دُور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ خانہ کعبہ سے متصل کلاک ٹاور ۶۰۰ میٹر تک بلند ہے جو ۳۰ تا ۱۷ کلومیٹر سے نظر آتا ہے۔ محترم خانہ کعبہ کے نشان کو دیکھنے کی خواہش کرنے والے لوگوں کو اُس کے قریب پہنچ کربھی پوچھنا پڑتا ہے کہ خانہ کعبہ کہاں ہے۔
خانہ کعبہ کو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے والوں کے حوالے سے اگر یہ کہہ دیا جائے کہ یہ کارنامہ تاجرانہ سوچ رکھنے والوں نے سرانجام دیا ہے۔ کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہُوا ہے، میری رائے میں علماء کرام کی اِن دنوں اگرچہ بہتات ہے لیکن نائب ِ رسول ناپید ہوچکے ہیں۔ علماء کے حوالے سے یہ تو سننے میں آتا ہے کہ وہ نائب ِ رسولؐ ہیں جن کی یہ ذمّے داری ہے کہ وہ غلط کو غلط کہا کریں اور سچ کی تائید کیا کریں۔ یہاں تو علما نے خود کو مدرَسوں اور مسجدوں تک محدود کر رکھا ہے حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اَللہ کے رسولؐ نے غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہتے رہنے کا درس دیا ہے۔ خانہ کعبہ کو ماند کرنے اور تجارتی مراکز کو اُجاگر کرنے کا سلسلہ جب شروع کیا جارہا تھا تب نائب ِ رسولؐ نے چشم پوشی کیوں اختیار کرلی تھی اور وہ مہر بہ لب کیوں ہوگئے تھے۔ اِسلامی تاریخ سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جب ابتدائی تعمیر ہوئی تھی اُس وقت اُس کا رقبہ فقط ۱۰۵۰ مربع میٹر تھا جس کی بنیاد وں میں پتھّر اور اُس کی چہار دیواری گارے مٹّی پر اُستوار کی گئی تھی، ستون کھجوروں کے تنوں سے بنائے گئے تھے جبکہ چھت کھجور کے درختوں کی شاخوں اور پتّوں سے بنائی گئی تھی۔ دورِ نبویؐ ہی میں اِس کی توسیع کی گئی جو ۵۰۰,۲ مربع میٹر تک جا پہنچا تھا۔ اِس وقت یہ مسجد تقریباً ۰۰۰,۹۸ مربع میٹر کے احاطے میں ہے جبکہ اُس کا صحن اور بیرونی احاطہ سمیت کُل رقبہ ۰۰۰,۴۰۰ مربع میٹر ہے۔ مسجد ِ محترم کے درودیوار اور اُس کے ستون وچھت کی تعمیر کن چیزوں سے کی گئی ہے اِس کی تفصیل یہاں بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ مسجد میں اِس وقت برقی قمقمے اور فانوس سیکڑوں کی تعداد میں نصب ہیں اور چھوٹے بڑے بلب ہزاروں کی تعداد میں لگائے گئے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں ایک عرصہ دراز تک مسجد ِ نبویؐ روشنی کا بندوبست نہ ہونے کے باعث تاریک رہی تھی پھر اُس میں ایک چراغ میسّر آیا، عثمانی دَور میں ۶۰۰ چراغوں سے مسجد ہٰذا کو روشن رکھا جانے لگا۔ اب وہاں رات کودن کا منظر دکھائی دیتا ہے۔
یہ تمثیل اور تفصیل بیان کرنے کا مدعا یہ ہے کہ جس طرح مسجد ِ نبویؐ کو اُس کی اصلی حالت میں نہیں چھوڑ دیا گیا ہے اِسی طرح اجتہادی نقطہ ٔ نظر کو بروئے کا لاکر خانہ کعبہ کو بھی بنیادوں سے اُوپر اُٹھاکر مناسب بلندی تک لے جایا جائے اور اُس محترم اور مقدّس عمارت کے گردوپیش میں تیس فٹ سے زیادہ بلند عمارتوں کی تعمیر کی اجازت ہرگز نہ دی جائے تاکہ حرم محترم کی شان وشوکت نمایاں ہوجائے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حرم کے گردوپیش میں بلندوبالا ہوٹل اور تجارتی مراکز حاجیوں کو سہولت پہنچانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ اِس خیال کا اظہار کرنے والے یہ غور نہیں کرتے ہیں کہ حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے صرف رئیس لوگ ہی نہیں آیا کرتے ہیں، اِس فریضے کی ادائیگی کا شوق وہ لوگ بھی رکھتے ہیں جو زادِ راہ کے لیے اپنے پیٹ کاٹ کر اور اپنی دنیاوی خواہشات کو مار کر پیسے اکھٹے کرتے ہیں۔ اُن غریبوں کو تو دُور دراز علاقوں میں بسیرا کرنا پڑتا ہے جبکہ رئیس اور اُمراء خانہ کعبہ کے سر پر مسلط رہنے والے ہوٹلوں میں مقیم ہوتے ہیں۔ رئیسوں اور امیروں سے ایسی ہی ہمدردی اور محبّت کرنی ہے یا یہ دانشمندی اور انسان دوستی کے مظاہر ہیں تو ایک قدم آگے بڑھاکر حرم کے اُوپر بھی ایک سومنزلہ ہوٹل تعمیر کروا دیا جائے تاکہ رئیسوں کو حج اور عمرہ کرنے میں مزید سہولت حاصل ہوجائے۔ غریب بیچاروں کا کیا ہے وہ ہوٹلوں کے بجائے مکّے سے باہر خیمہ زن ہوجایا کریں گے اور کعبہ تک پیدل آیا جایا کریں گے اور رئیسوں سے زیادہ ثواب حاصل کرلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کلومیٹر د ور سے خانہ کعبہ کو ۱۰ کلومیٹر مربع میٹر کے بجائے کرنے کی دیا گیا کہیں پر اور ا س میٹر ا کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔
اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔
Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.
As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.
Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔
سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔
ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔
نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس