وزیراعظم شہباز شریف کا سولر میٹر رکھنے والوں کو نیٹ بلنگ پر منتقل نہ کرنے کا حکم، اویس لغاری کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کے فیصلے کو روکتے ہوئے حکم دیا ہے کہ فی الحال میٹر والے سولر صافین کو نیٹ بلنگ پر منتقل نہ کیا جائے اور ان کی نیٹ میٹرنگ جاری رکھی جائے۔
یہ بات وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے بدھ کو ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے بتائی۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ سولر صارفین کے لیے دھچکا کیوں؟
اویس لغاری نے بتایا کہ بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم نے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے نیپرا میں ریویو فائل کیا جائے۔ تاہم اویس لغاری نے واضح کیا کہ سولر سسٹم سے استفادہ کرنے والے جو افراد آئندہ میٹر لگوائیں گے ان پر نیٹ بلنگ والا نیا نظام ہی لاگو ہوگا۔
واضح رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کو تمام موجودہ اور مستقبل کے نیٹ میٹرڈ سولر صارفین (پروزیومرز) کے معاہدوں میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کرتے ہوئے اس کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قابو میں رکھنا اور مہنگے اور غیر مؤثر سرکاری بجلی کے نظام کی حفاظت کرنا بتایا گیا ہے۔
اس سے مراد یہ بھی ہے کہ صارفین جو پہلے دن کے اضافی یونٹس گرڈ کو دیتے تھے اور رات میں وہی یونٹس ون ٹو ون بنیاد پر واپس حاصل کرتے تھے اب انہیں ہر یونٹ کے بدلے کم کریڈٹ ملے گا جس سے سولر صارفین کی سرمایہ کاری اور ماہانہ بجلی کے بل پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: پروٹیکٹڈ بجلی صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد، نیپرا نے بڑا فیصلہ کرلیا
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے یہ بھی ہداہت کی ہے کہ ایک ایسا جامع نظام تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے میٹر رکھنے والے موجودہ سولر صارفین کو نیٹ بلنگ کی جانب منتقل بھی نہ کیا جائے اور ان کو ملنے والی رعایت کی وجہ سے باقی ساڑھے 3 کروڑ صارفین پر جو 80 سے 100 ارب روپے کا بوجھ پڑ رہا ہے اس کو بھی کسی طرح مینیج کیا جائے۔
سولر کنزیومرز کتنے اور میٹر رکھنے والوں کی تعداد کتنی؟انہوں نے بتایا کہ کل کنزیومر 3 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہیں جبکہ سولر میٹر والے 4 لاکھ 60 ہزار ہیں جو 6 ہزار میگا واٹ پیدا کر رہے ہیں جو یہ زیادہ تر امیر علاقوں میں ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیٹ میٹرنگ ختم، کیا سولر صارفین کے لیے بلنگ مہنگی ہو جائے گی؟
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سولر سسٹم استعمال کرنے والے افراد 14 ہزار میگا واٹ کے پینل لگا چکے ہیں جن کا نیٹ میٹرنگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
ن لیگ اور پی پی کے دعوے اور اویس لغاری کا جوابانتخابات سے پہلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ہی کے دعوے تھے کہ بالترتیب 200 اور 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے اینکر نے توجہ دلائی کہ کم سلیب والے پروٹیکٹڈ صارفین پر چارجز بڑھ رہے ہیں جس کے جواب میں لغاری نے کہا کہ فی الوقت پروٹیکٹڈ صارفین کو 62 فیصد سے لے کر 89 فیصد تک کی رعایت حاصل ہے یعنی وہ لوگ بجلی کی 10 تا 40 فیصد قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ پہنچ چکی ہے تو اتنے بڑے ڈسکاؤنٹ کا مطلب یہی ہے کہ الیکشن میں کیے گئے وعدے پورے کیے جا رہے ہیں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ کنزیومرز کا معاملہ اب تک یہ تھا کہ وہ جو سسٹم لگاتا تھا اس کی قیمت 2 سال میں پوری واپس وصول کرلیتا تھا جو تقریباً 50 فیصد منافع بنتا ہے اور اب نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر شفٹ ہونے پر اس کو 37 فیصد منافع سالانہ ملے گا یعنی ان کا منافع صرف 14 فیصد ہی کم ہوگا جبکہ عام صارفین کو اس کا بڑا فائدہ پہنچے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سولر صارفین نیٹ بلنگ نیٹ میٹرنگ نیٹ میڑنگ نظام ختم، وزیر اعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر صارفین نیٹ بلنگ نیٹ میٹرنگ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اویس لغاری نے سولر صارفین نے بتایا کہ نیٹ بلنگ پر کو نیٹ بلنگ نیٹ میٹرنگ کیا جائے رہے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز