جنرل نروا نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غالباً یہ سن دوہزار یا اس کے آس پاس کا واقعہ ہے کہ میں شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے سرینگر کی جانب سفر کر رہا تھا۔ سنگرامہ کا علاقہ کراس کرنے کے چند کلومیٹر کے بعد ہی دیکھا کہ فوجی جوان مسافر گاڑیوں کر روک کر سواریوں کونیچے اُترنے کا حکم دیکر لائن میں مارچ کرواکے لے جارہے تھے۔ ان دنوں تلاشی آپریشنوں کے دوران یہ ایک معمول کی کارروائی تھی۔ لگتا تھا کہ شاید شناختی پریڈ ہو رہی ہے اور چند سو گز چلنے کے بعد دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے اور آگے سفر کرنے کی اجاز ت مل جائے گی۔ مگر جلد ہی احساس ہوا کہ مسافروں کے علاوہ آس پاس کے دیہاتوں، کھیتوں اور کھلیانوں سے بھی مکینوں کو کھدیڑ کر لایا جا رہا ہے اور سبھی کو سیکورٹی کے حصار میں کسی نامعلوم منزل کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ تقریباً دو کلومیٹر چلنے کے بعد سڑک پر ایک جگہ بیٹھنے کاحکم دیا گیا۔ سرینگر سے آنے والی گاڑیوں کو بھی روک کر ان میں سے مسافروں کو نکال کر اس جگہ پہنچایا جا رہا تھا۔ کئی مسافروں نے بتایا کہ وہ صبح کی بس سے سرینگر دفتر جانے کے لیے نکلے تھے اور تبھی سے بس یہاں اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ شناختی پریڈ ہو رہی تھی نہ مسافروں کو جانے دیا جا رہا تھا۔ خیر کئی گھنٹوں کے بعد ہل چل ہونا شروع ہوگئی اور چند ساعتوں کے بعد ایک فوجی قافلہ نمودار ہوگیا۔ ایک کرنل صاحب، ٹی وی کیمروں کی معیت میںگاڑی سے اُترے۔ بات بس اتنی تھی کہ فوج نے آپریشن گڈ ول یا آپریشن سد بھاونا شروع کیا ہوا تھا، اور خیر سگالی کے لیے اس علاقے کے لوگوں کے لیے ایک بس اسٹاپ تعمیر کیا ہوا تھا۔ اب اس دن کرنل صاحب کو اس کا افتتاح کرنا تھا۔ اس کے لیے صبح سے مسافروں کو بسوں سے اُتار کر اور آس پاس کے دیہاتوں سے مکینوں کو لا کر اس تقریب کا حصہ بنا کر خیر سگالی کا مزہ چکھایا جا رہا تھا۔
یہ کرنل منوج مکند نروا نے تھے، جو ان دنوں راشٹریہ رائفلز کے اس علاقے میں کمانڈر تھے۔ افتتاح کے بعد انہوں نے تقریر کی، جو اب مجھے یاد نہیں آرہی ہے۔ مگر اتنا یاد آرہا ہے کہ جب انہوں نے پہلی صف میں براجمان کئی افراد سے ان کی تکالیف کے بارے میں پوچھا، تو وہ یک زبان تھے کہ اس شاہرا ہ پرسفر کرنے والی مسافر گاڑیوں کو فوجی گاڑیوں کو اور ٹیک کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت مسافر گاڑیوں کو فوجی گاڑیوں کے پیچھے چلنے کی سختی سے ہدایت ہوتی تھی، جس کی وجہ سے سرینگر تک کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر تین یا کبھی چار گھنٹوں میں طے ہوتا تھا۔ تقریب کے بعد چند لوگوں کو کیمرہ کے سامنے اس بس اسٹاپ اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالنے کے لیے کہا گیا۔ سبھی کو چائے کا ایک گلاس تھما کر اپنی اپنی بسوں میں واپس جانے کا حکم دیا گیا۔ ان ہی دنوں پٹن کے قریب ایک گائوں میں سرچ آپریشن کے دوران، جس کو کرنل صاحب لیڈ کررہے تھے، چھے شہری مارے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کا خاصا رعب و دبدبہ تھا۔ یہی منوج نروانے بعد میں دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے اٹھائیسویں سربراہ رہے۔ ان دنوں ان کی غیر مطبوعہ کتاب ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کتاب کو 2024 میں شائع ہونا تھا، لیکن حکومت نے اس کی اشاعت کی منظوری نہیں دی۔ کئی سال سے اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ سلامتی اور خفیہ اداروں سے ریٹائر ہونے والے افسران کو اپنی کتابیں متعلقہ محکموں کو جانچ کے لیے بھیجنی ہوتی ہیں۔
اگرچہ اس کتاب کی باضابطہ اشاعت کی اجازت نہیں ملی ہے، تاہم اس کی نقول دہلی میں گردش کر رہی ہیں۔ کئی اخبارات خاص طور پر ماہنامہ کاروان نے اپنے فروری کے شمارہ میں اس کے اقتباسات چھاپے ہیں۔ اس کے اقتباسات سے ہی پتا چلتا ہے کہ مودی حکومت نے اس کی اشاعت کو کیوں روک دیا ہے۔ حال ہی میں جب راہول گاندھی نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریک ِ تشکر کے دوران اس کتاب سے ا قتباسات پڑھنے شروع کیے تو اسپیکر اوم برلا نے اس کی اجازت نہیں دی۔ وزیر ِ دفاع نے کہا کہ چونکہ کتاب شائع نہیں ہوئی، اس لیے اس کے اقتباسات کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ اس پر راہول گاندھی نے عندیہ دیا کہ اگلے روز وزیر ِ اعظم مودی کی تقریر کے دوران انہیں اس کتاب کی ایک نقل پیش کریں گے۔ مگر اس کتاب کا کچھ ایسا خوف ہے کہ وزیر ِ اعظم ایوان میں آئے ہی نہیں اور پہلی لوک سبھا میں تحریک ِ تشکر وزیر ِ اعظم کے روایتی جواب کے بغیر منظور کر لی گئی۔ ویسے تو اس کتاب میں کئی واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔ نروانے کا کہنا ہے کہ بھارت کی کل چودہ کورز، جن میں تقریباً چالیس ڈویژنز اور دیگر بریگیڈیں شامل ہیں، میں سے تقریباً نو کورز یعنی ستر فی صد اور تیس سے زائد ڈویژنز پچھتر فی صد پاکستان سے ملحق تین ہزار تین سو کلومیٹر سرحد پر تعینات ہیں۔ اس کے برعکس چین کے ساتھ چار ہزار کلومیٹر سے زائد طویل اور کہیں زیادہ دشوار گزار محاذ پر صرف چار کورز یعنی تیس فی صد اور محض نو ڈویڑنز یعنی پچیس فی صد ہی تعینات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ اس طرح کی فوجی ترتیب چین کی طرف سے کسی معمولی خطرے کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔
مئی 2020 کے واقعہ کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ پہلے ہفتے میں لداخ کے علاقے میں چینی پیپلز لبریشن آرمی یعنی پی ایل اے کے ساتھ پی پی-14 سرحدی پوائنٹ پر ایک جھڑپ ہوئی، اور چند روز بعد پینگونگ تسو جھیل کے شمالی کنارے پر بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ تقریباً اسی وقت سکّم کے علاقے ناکو لا درّے میں بھی جھڑپ ہوئی۔ یہ تمام واقعات پی ایل اے کے جارحانہ رویے کا نتیجہ تھے، جو گویا لڑائی کے بہانے تلاش کر رہی تھی۔ مئی کے تیسرے ہفتے میں ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پی ایل اے نے پی پی-15 اور پی پی-17 اے کے علاقوں میں بھاری تعداد میں اپنی موجودگی قائم کر لی اور پندرہ سے بیس بکتر بند گاڑیاں، بھاری مشینری، بلڈوزر اور سیکڑوں فوجی تعینات کیے۔ یہ وہ علاقے تھے جہاں دونوں فریق گشت کرتے، چند گھنٹے نگرانی کے بعد اپنی مستقل چوکیوں کی طرف واپس چلے جاتے تھے۔ پی ایل اے گلوان کی طرف اور بھارتی فوجی کرن سنگھ ہِل کی طرف لوٹتے تھے۔ پینگونگ تسو کے شمالی کنارے کی صورتحال کچھ مختلف تھی۔ تقریباً 4350 میٹر کی بلندی پر واقع یہ دنیا کی بلند ترین نمکین جھیل ہے۔ (جاری ہے) (بشکریہ: 92 نیوز)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گاڑیوں کو پی ایل اے کے دوران رہا تھا اس کتاب اس کے ا کی طرف جا رہا کے بعد کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔