Jasarat News:
2026-07-24@00:52:55 GMT

جنرل نروا نے کی یادداشتیں اور مودی حکومت کی پریشانیاں

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غالباً یہ سن دوہزار یا اس کے آس پاس کا واقعہ ہے کہ میں شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے سرینگر کی جانب سفر کر رہا تھا۔ سنگرامہ کا علاقہ کراس کرنے کے چند کلومیٹر کے بعد ہی دیکھا کہ فوجی جوان مسافر گاڑیوں کر روک کر سواریوں کونیچے اُترنے کا حکم دیکر لائن میں مارچ کرواکے لے جارہے تھے۔ ان دنوں تلاشی آپریشنوں کے دوران یہ ایک معمول کی کارروائی تھی۔ لگتا تھا کہ شاید شناختی پریڈ ہو رہی ہے اور چند سو گز چلنے کے بعد دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے اور آگے سفر کرنے کی اجاز ت مل جائے گی۔ مگر جلد ہی احساس ہوا کہ مسافروں کے علاوہ آس پاس کے دیہاتوں، کھیتوں اور کھلیانوں سے بھی مکینوں کو کھدیڑ کر لایا جا رہا ہے اور سبھی کو سیکورٹی کے حصار میں کسی نامعلوم منزل کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ تقریباً دو کلومیٹر چلنے کے بعد سڑک پر ایک جگہ بیٹھنے کاحکم دیا گیا۔ سرینگر سے آنے والی گاڑیوں کو بھی روک کر ان میں سے مسافروں کو نکال کر اس جگہ پہنچایا جا رہا تھا۔ کئی مسافروں نے بتایا کہ وہ صبح کی بس سے سرینگر دفتر جانے کے لیے نکلے تھے اور تبھی سے بس یہاں اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ شناختی پریڈ ہو رہی تھی نہ مسافروں کو جانے دیا جا رہا تھا۔ خیر کئی گھنٹوں کے بعد ہل چل ہونا شروع ہوگئی اور چند ساعتوں کے بعد ایک فوجی قافلہ نمودار ہوگیا۔ ایک کرنل صاحب، ٹی وی کیمروں کی معیت میںگاڑی سے اُترے۔ بات بس اتنی تھی کہ فوج نے آپریشن گڈ ول یا آپریشن سد بھاونا شروع کیا ہوا تھا، اور خیر سگالی کے لیے اس علاقے کے لوگوں کے لیے ایک بس اسٹاپ تعمیر کیا ہوا تھا۔ اب اس دن کرنل صاحب کو اس کا افتتاح کرنا تھا۔ اس کے لیے صبح سے مسافروں کو بسوں سے اُتار کر اور آس پاس کے دیہاتوں سے مکینوں کو لا کر اس تقریب کا حصہ بنا کر خیر سگالی کا مزہ چکھایا جا رہا تھا۔

یہ کرنل منوج مکند نروا نے تھے، جو ان دنوں راشٹریہ رائفلز کے اس علاقے میں کمانڈر تھے۔ افتتاح کے بعد انہوں نے تقریر کی، جو اب مجھے یاد نہیں آرہی ہے۔ مگر اتنا یاد آرہا ہے کہ جب انہوں نے پہلی صف میں براجمان کئی افراد سے ان کی تکالیف کے بارے میں پوچھا، تو وہ یک زبان تھے کہ اس شاہرا ہ پرسفر کرنے والی مسافر گاڑیوں کو فوجی گاڑیوں کو اور ٹیک کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت مسافر گاڑیوں کو فوجی گاڑیوں کے پیچھے چلنے کی سختی سے ہدایت ہوتی تھی، جس کی وجہ سے سرینگر تک کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر تین یا کبھی چار گھنٹوں میں طے ہوتا تھا۔ تقریب کے بعد چند لوگوں کو کیمرہ کے سامنے اس بس اسٹاپ اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالنے کے لیے کہا گیا۔ سبھی کو چائے کا ایک گلاس تھما کر اپنی اپنی بسوں میں واپس جانے کا حکم دیا گیا۔ ان ہی دنوں پٹن کے قریب ایک گائوں میں سرچ آپریشن کے دوران، جس کو کرنل صاحب لیڈ کررہے تھے، چھے شہری مارے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کا خاصا رعب و دبدبہ تھا۔ یہی منوج نروانے بعد میں دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے اٹھائیسویں سربراہ رہے۔ ان دنوں ان کی غیر مطبوعہ کتاب ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کتاب کو 2024 میں شائع ہونا تھا، لیکن حکومت نے اس کی اشاعت کی منظوری نہیں دی۔ کئی سال سے اب یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ سلامتی اور خفیہ اداروں سے ریٹائر ہونے والے افسران کو اپنی کتابیں متعلقہ محکموں کو جانچ کے لیے بھیجنی ہوتی ہیں۔

اگرچہ اس کتاب کی باضابطہ اشاعت کی اجازت نہیں ملی ہے، تاہم اس کی نقول دہلی میں گردش کر رہی ہیں۔ کئی اخبارات خاص طور پر ماہنامہ کاروان نے اپنے فروری کے شمارہ میں اس کے اقتباسات چھاپے ہیں۔ اس کے اقتباسات سے ہی پتا چلتا ہے کہ مودی حکومت نے اس کی اشاعت کو کیوں روک دیا ہے۔ حال ہی میں جب راہول گاندھی نے لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریک ِ تشکر کے دوران اس کتاب سے ا قتباسات پڑھنے شروع کیے تو اسپیکر اوم برلا نے اس کی اجازت نہیں دی۔ وزیر ِ دفاع نے کہا کہ چونکہ کتاب شائع نہیں ہوئی، اس لیے اس کے اقتباسات کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ اس پر راہول گاندھی نے عندیہ دیا کہ اگلے روز وزیر ِ اعظم مودی کی تقریر کے دوران انہیں اس کتاب کی ایک نقل پیش کریں گے۔ مگر اس کتاب کا کچھ ایسا خوف ہے کہ وزیر ِ اعظم ایوان میں آئے ہی نہیں اور پہلی لوک سبھا میں تحریک ِ تشکر وزیر ِ اعظم کے روایتی جواب کے بغیر منظور کر لی گئی۔ ویسے تو اس کتاب میں کئی واقعات درج ہیں، جو مودی حکومت کے لیے پشیمانی کا باعث ہیں، مگر ان میں سب سے اہم مئی 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تصادم اور اس میں وزیر اعظم کا کردار ہے۔ بجائے فوج کو کوئی ہدایت یا حکم دینے، جو وہ اکثر پاکستان کے سلسلے میں دیتے ہیں، انہوں نے بس اپنا پلہ جھاڑ کر کارروائی کرنے کا طوق فوجی سربراہ کے گلے میں ڈال دیا۔ نروانے کا کہنا ہے کہ بھارت کی کل چودہ کورز، جن میں تقریباً چالیس ڈویژنز اور دیگر بریگیڈیں شامل ہیں، میں سے تقریباً نو کورز یعنی ستر فی صد اور تیس سے زائد ڈویژنز پچھتر فی صد پاکستان سے ملحق تین ہزار تین سو کلومیٹر سرحد پر تعینات ہیں۔ اس کے برعکس چین کے ساتھ چار ہزار کلومیٹر سے زائد طویل اور کہیں زیادہ دشوار گزار محاذ پر صرف چار کورز یعنی تیس فی صد اور محض نو ڈویڑنز یعنی پچیس فی صد ہی تعینات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ اس طرح کی فوجی ترتیب چین کی طرف سے کسی معمولی خطرے کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔

مئی 2020 کے واقعہ کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ پہلے ہفتے میں لداخ کے علاقے میں چینی پیپلز لبریشن آرمی یعنی پی ایل اے کے ساتھ پی پی-14 سرحدی پوائنٹ پر ایک جھڑپ ہوئی، اور چند روز بعد پینگونگ تسو جھیل کے شمالی کنارے پر بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ تقریباً اسی وقت سکّم کے علاقے ناکو لا درّے میں بھی جھڑپ ہوئی۔ یہ تمام واقعات پی ایل اے کے جارحانہ رویے کا نتیجہ تھے، جو گویا لڑائی کے بہانے تلاش کر رہی تھی۔ مئی کے تیسرے ہفتے میں ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے پی ایل اے نے پی پی-15 اور پی پی-17 اے کے علاقوں میں بھاری تعداد میں اپنی موجودگی قائم کر لی اور پندرہ سے بیس بکتر بند گاڑیاں، بھاری مشینری، بلڈوزر اور سیکڑوں فوجی تعینات کیے۔ یہ وہ علاقے تھے جہاں دونوں فریق گشت کرتے، چند گھنٹے نگرانی کے بعد اپنی مستقل چوکیوں کی طرف واپس چلے جاتے تھے۔ پی ایل اے گلوان کی طرف اور بھارتی فوجی کرن سنگھ ہِل کی طرف لوٹتے تھے۔ پینگونگ تسو کے شمالی کنارے کی صورتحال کچھ مختلف تھی۔ تقریباً 4350 میٹر کی بلندی پر واقع یہ دنیا کی بلند ترین نمکین جھیل ہے۔ (جاری ہے) (بشکریہ: 92 نیوز)

افتخار گیلانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گاڑیوں کو پی ایل اے کے دوران رہا تھا اس کتاب اس کے ا کی طرف جا رہا کے بعد کے لیے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی