پاکسستان کی صوفی اور پہلی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر کو امریکا میں ایوارڈ سے نواز دیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
کراچی: پاکستان سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ صوفی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر کو امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کے ایوان میں منعقدہ عالمی تقریب ’’شی لیڈز دی نیشنز‘‘ کے دوران اعلیٰ اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
امریکی کانگریس میں منعقد ہونے والے She Leads a Nations Global Summit میں امریکا سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنما، ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
اس عالمی اقدام کی بنیاد لِز ڈوئل نے رکھی، جو 2021 میں قائم ہونے والی تحریک She Leads America کا عالمی توسیعی منصوبہ ہے، جس کا مقصد حکومت، میڈیا، کاروبار، تعلیم، صحت، دفاع اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
تقریب میں دنیا بھر سے منتخب کی گئی 14 خواتین رہنماؤں کو ان کی قیادت، خدمات اور اثر و رسوخ کے اعتراف میں اعزازات دیے گئے۔
صوفی اوپیرا گلوکارہ اور پاکستان کی پہلی اوپراٹک آواز سائرہ پیٹر نے کہا کہ میرے لیے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس ہاؤس میں مدعو کیا جانا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
اس تقریب میں انہوں نے پرفارم کیا اور انہیں باوقار شی لیڈز دی نیشنز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی مقام پر ملنے والی عزت، احترام اور پذیرائی ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
سائرہ پیٹر نے مزید کہا کہ انہیں امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی دورے کی دعوت بھی دی گئی، جہاں آفس آف ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر کی افسر مس بیلسِس رومیرو نے میزبانی کی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستانی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے روایتی لباس میں پاکستان کے پرچم کے سامنے تصویر بنوانے پر فخر محسوس ہوا۔
تقریب کے دوران صوفی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر کو اسٹیج پر مدعو کرنے سے قبل ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے صوفی پیغامِ امن اور ہم آہنگی کو موسیقی کے ذریعے دنیا بھر میں متعارف کرایا، صوفی اوپیرا کے نئے انداز کو فروغ دیا اور نوجوان خواتین کی تربیت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے سائرہ پیٹر نے کہا کہ وہ صوفی موسیقی کے ذریعے محروم خواتین اور بچوں تک امید اور وقار کا پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تقریب میں موجود شرکا نے ان کی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سائرہ پیٹر اس وقت این جے آرٹس لندن کی ڈائریکٹر اور لاہور میں قائم سائرہ آرٹس اکیڈمی کی بانی بھی ہیں، جہاں وہ نوجوان خواتین کو اوپیرا کی تربیت فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے امریکی کانگریس میں افتتاحی تقریب کے دوران پرفارم بھی کیا۔ انہوں نے اوپیرا آریا “I Know That My Redeemer Liveth” پیش کرتے ہوئے اسے دنیا بھر کی مظلوم خواتین کے نام منسوب کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل امریکی کانگریس سائرہ پیٹر دنیا بھر انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔