ریجنل ڈائریکٹر حیدرآباد کا خالد میموریل اسکول کا تفصیلی دورہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ محمد سہیل احمد راجپوت (ستارہ امتیاز) کی خصوصی ہدایات پر محتسب اعلیٰ سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر حیدرآباد سید سجاد حیدر شاہ نے خالد میموریل اسکول کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ریجنل ڈائریکٹر نے اسکول کی عمارت، تدریسی ماحول اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف کلاس رومز کا معائنہ کیا، اساتذہ اور طلبہ سے ملاقات کی اور تعلیمی معیار، تدریسی طریقہ کار اور دستیاب سہولیات سے متعلق معلومات حاصل کیں۔معائنے کے وقت اسکول کی عمارت کا مرمتی کام آخری مراحل میں تھا، تاہم انرولوڈ طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں حاضری نہایت کم پائی گئی۔ مزید برآں، 25 سے زائد اساتذہ اور دیگر عملہ موجود تھا جبکہ طلبہ کی تعداد کم تھی -ریجنل ڈائریکٹر نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مو ¿ثر انتظامی حکمت عملی اور مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی تاکہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئے۔ دورے کے اختتام پر اساتذہ اور انتظامی عملے کے ساتھ ایک آگاہی سیشن منعقد کیا گیا جس میں صوبائی محتسب کے ادارے کے اغراض و مقاصد، عوامی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار اور آن لائن شکایت درج کرانے کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔شرکائکے سوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کیے گئے اور یقین دہانی کرائی گئی کہ محتسب اعلیٰ سندھ کی ہدایات کے مطابق عوامی شکایات کے فوری ازالے، اداروں میں شفافیت کے فروغ اور سہولیات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریجنل ڈائریکٹر
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔