کارپوریشن کے نئے ایکٹ کے نفاذ کے بعد انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں رونماں ہوئی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) مہران ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری محمد اسلم عباسی نے حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایکٹ 2023کی روشنی میں اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ کارپوریشن میں نئے ایکٹ کے نفاذ اور زبیر احمد پٹھان کی بحیثیت چیف فنانشل آفیسر ( سی ایف او )کے کنٹریکٹ پر تقرر کے بعد انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ایکٹ 2023کی دفعہ Section16کے تحت سی ایف او کا عہدہ ایک بااختیار اور کلیدی عہدہ ہے،اس نئے قانون کے آنے کے بعد سابقہ واساکے دور کے عہدوں ڈائریکٹر فنانس اینڈ کمرشل اور نان بجٹری عہدے ڈائریکٹر ریکوری کے اختیارات اب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں،اب ریکوری، کمرشل امور اور مالیاتی حکمت عملی کی تمام تر ذمہ داری ایکٹ کے مطابق صرف اور صرف زبیر احمد پٹھان نئے چیف فنانشل آفیسر کے کندھوں پر ہے۔ محمد اسلم عباسی نے مزید کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 16کے تحت سی ایف او نہ صرف ریونیو بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہے بلکہ وہ کارپوریشن کے تمام مالیاتی حسابات اور فنڈز کے انتظام کا بھی جوابدہ ہے۔ لہذا آج سے جہاں چیف ایگزیکٹو آفیسر دفعہ 12(1)(g)کے تحت تنخواہوں کی منظوری کے ذمہ دار ہیں، وہیں چیف فنانشل آفیسر بھی ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات کی عدم ادائیگی اور دیگر مالیاتی واجبات کے حوالے سے برابر کے ذمہ دار اور جوابدہ تصور کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :