پشاور ہائیکورٹ میں فاریسٹ آفیسر کی بریت کے خلاف نیب کی اپیل خارج
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ میں محکمہ جنگلات کے افسر کے بری ہونے کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے فاریسٹ آفیسر کی بریت کے خلاف نیب کی اپیل خارج کر دی۔
فاریسٹ آفیسر کے وکیل دانیال چمکنی ایڈووکیٹ اور نیب اسپیشل پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔
ملزم کے وکیل نے کہا کہ اپیل کنندہ کاغان کے علاقے ٹل صحت خیل کا چیئرمین تھا، اپیل کنندہ کے خلاف نیب نے درختوں کی کٹائی پر ریفرنس دائر کیا۔
ملزم کے وکیل نے مزید کہا کہ احتساب عدالت نے 2011 میں ملزم کو بری کیا تھا، نیب نے ملزم پر الزامات لگائے، جس میں کوئی صداقت نہیں۔
نیب اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کاغان میں درختوں کی زیادہ کٹائی ہوئی ہے، درختوں کی کٹائی میں 5 کروڑ روپےکی خورد برد ہوئی ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی اپیل خارج کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نیب کی اپیل کے خلاف نیب
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔