زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر قومی معیشت کا استحکام ممکن نہیں‘ناصرشاہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر قومی معیشت کا استحکام ممکن نہیں اور سندھ حکومت کسانوں، آبادگاروں اور ہاریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کر رہی ہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں منعقدہ سندھ آبادگار فورم سے خطاب کر رہے تھے جس میں سندھ کے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے زمینداروں، کاشتکاروں، زرعی ماہرین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فورم میں زرعی پیداوار میں اضافے، بڑھتی ہوئی لاگت، پانی کی دستیابی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، مارکیٹ تک رسائی اور پالیسی اصلاحات سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ان کا تعلق خود ایک کسان خاندان سے ہے اور اسی وجہ سے وہ دیہی معیشت اور کاشتکاروں کے مسائل کو ذاتی طور پر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان دن رات محنت کر کے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں اس لیے ان کی معاشی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہاری کارڈ کا اجراء کر کے سبسڈی اور مالی معاونت کی فراہمی کو شفاف اور براہ راست بنایا ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کسان دوست پالیسی کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں کاشتکاروں کو ان کی محنت کا بہتر معاوضہ ملا اور دیہی معیشت میں بہتری آئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔