431 شہریوں کو ایم پی او کے تحت گرفتار کرناافسوسنا ک ہے‘حلیم عادل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی او کے تحت پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی ڈویڑن کے صدر راجہ اظہر، سینیئر نائب صدر فہیم خان، پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، انصاف لائرز فورم کراچی کے صدر ایڈووکیٹ شجاعت علی خان، ایڈووکیٹ خان زمان، راؤ اعظم، ایڈووکیٹ جی ایم آزاد، یاسر بلوچ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وہ آج بڑے دکھی دل کے ساتھ عوام کی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں صوبائی حکومت نے ایم پی او کے تحت پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر کے بدترین ریاستی جبر کی مثال قائم کی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں 431 محب وطن شہریوں کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، جن میں سے 272 کو سینٹرل جیل اور 159 کو ملیر جیل سے رہا کروایا گیا جبکہ سو سے زائد کارکنان مختلف تھانوں سے رہائی پا چکے ہیں ایس ایچ ناصر اور دیگر اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ان ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم پی او کے تحت
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک